Pakistan
سپریم کورٹ کی سندھ پولیس کو ایف آئی آر میں تاخیر پر سخت تنبیہ
سپریم کورٹ نے سندھ میں مقدمات کے اندراج میں بلاجواز تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایسی غفلت برتنے پر پولیس افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے سندھ پراسیکیوٹر جنرل سے قتل کے تمام مقدمات کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ نے سندھ کے صوبے میں ایف آئی آر (FIR) کے اندراج میں مسلسل تاخیر کے معاملے پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے پولیس حکام کو تنبیہ کی ہے کہ اگر مستقبل میں مقدمات درج کرنے میں اس طرح کی تاخیر کی گئی تو متعلقہ افسران کو توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ ریمارکس جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس صلاح الدین پنوار پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سندھ کے ضلع دادو میں 2012 کے ایک قتل کیس میں سزائے موت پانے والے مجرم علی رضا سیال کی جیل اپوزیشن کی سماعت کے دوران جاری کردہ فیصلے میں دیے۔ عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے مجرم کی اپیل خارج کر دی، تاہم پولیس کے روایتی اور سست روی کے طریق کار پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا۔
فیصلے میں جسٹس صلاح الدین پنوار نے نشاندہی کی کہ یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ سندھ میں مقدمات کے اندراج میں تاخیر کا پرانا اور غیر قانونی سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اس مقدمے میں بھی پولیس کو واقعے کی اطلاع اسی رات مل گئی تھی لیکن ایف آئی آر تین دن سے زائد کی تاخیر کے بعد درج کی گئی۔ عدالت نے یاد دلایا کہ اس سے قبل محمد بخش کیس میں بھی پولیس کو واضح ہدایات دی گئی تھیں کہ کسی بھی واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس اسٹیشن کے انچارج کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر ایف آئی آر درج کرے۔ تاخیر کی وجہ سے عدالتی تحقیقات اور فرانزک شواہد ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے سندھ کے پراسیکیوٹر جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ یکم جنوری 2025 سے اب تک کے قتل کے تمام مقدمات کی ایک جامع رپورٹ پیش کریں جس میں وقوعہ کے وقت اور رپورٹ درج ہونے کے وقت کا واضح تقابل کیا گیا ہو اور ان کیسوں کی نشاندہی کی جائے جن میں چوبیس گھنٹوں کے بعد ایف آئی آر درج ہوئی۔ یہ رپورٹ دو ماہ کے اندر چیمبر میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مزید برآں، عدالت نے یہ بھی کہا کہ پولیس کارروائیوں میں فَرْیادی یا باخدمت جناب ایس ایچ آر جیسے استعماری الفاظ کا استعمال اب ختم ہونا چاہیے کیونکہ شہری اپنے حق کے طور پر حکام سے رجوع کرتے ہیں نہ کہ کسی احسان کے طور پر۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ نچلی عدالتوں کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ تفتیش یا ایف آئی آر میں ہونے والی غیر ضروری تاخیر کا نوٹس لیں اور اسے محض ایک معمولی بے ضابطگی قرار نہ دیں۔ عدالت نے خبردار کیا کہ آئندہ محمد بخش فیصلے کی کسی بھی قسم کی نافرمانی پر آئی جی پولیس، ایس پی انویسٹی گیشن اور متعلقہ ایس ڈی پی اوز کے خلاف سخت توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد سندھ کے نظامِ انصاف میں بہتری لانا اور عام شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔