Pakistan
پی ایم ڈی سی افغان میڈیکل طلباء کیس: لاہور ہائی کورٹ کا حکم
لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے اس حکم نامے کی معطلی میں توسیع کر دی ہے جس کے تحت افغان میڈیکل طلباء کو واپس جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ عدالت نے فریقین کی جانب سے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت مانگنے پر سماعت ملتوی کر دی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے اس متنازعہ حکم نامے کی معطلی میں توسیع کر دی ہے جس میں افغان میڈیکل طلباء کو اپنے وطن واپس جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب کونسل اور متعلقہ یونیورسٹی کے وکلاء نے عدالت سے اپنے تحریری جوابات جمع کرانے کے لیے مزید مہلت کی استدعاء کی۔ پی ایم ڈی سی نے یکم ستمبر کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں پاکستانی کالجوں میں زیر تعلیم افغان میڈیکل طلباء کو واپس افغانستان جانے کا حکم دیا گیا تھا، جبکہ موجودہ تعلیمی سیشن کے لیے نئے داخلوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس حکم نامے کے خلاف لاہور کے مختلف اداروں بشمول کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں زیر تعلیم 13 افغان طلباء نے 10 ستمبر کو عدالت میں درخواستیں دائر کی تھیں۔ کیس کی گزشتہ سماعت پر جسٹس خالد اسحاق نے پی ایم ڈی سی، وزارت صحت اور میڈیکل جامعات کے وائس چانسلرز سے جواب طلب کیا تھا۔ جمعہ کے روز سماعت کے دوران پی ایم ڈی سی اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وکلاء عدالت میں پیش ہوئے اور جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت مانگا، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ اس کے علاوہ عدالت نے پانچ افغان میڈیکل گریجویٹس کی طرف سے دائر کردہ ایک اور درخواست پر بھی سماعت کی، جن کا تعلق علامہ اقبال اسکالرشپ پروگرام سے تھا۔ پٹیشنرز کا مؤقف تھا کہ انہوں نے کامیابی کے ساتھ اپنا پانچ سالہ ایم بی بی ایس پروگرام مکمل کر لیا ہے، لیکن پی ایم ڈی سی کی جانب سے ان کی رجسٹریشن کی درخواستیں مہینوں سے زیر التواء ہیں جس کی وجہ سے وہ لازمی ہاؤس جاب مکمل کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کونسل کے قوانین کے مطابق گریجویٹس کو ان سے متعلقہ تدریسی اسپتال میں ہاؤس جاب کا حق حاصل ہے اور کوئی بھی قانون انہیں جبری ملک بدری کا اختیار نہیں دیتا۔ دوسری جانب، ملک بھر میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں بالخصوص افغان شہریوں کی ملک بدری کا عمل گزشتہ کچھ عرصے سے جاری ہے اور وزارتِ داخلہ کی رپورٹس کے مطابق لاکھوں افغان شہری اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔ اس پس منظر میں عدالت نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے اور پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کے تناظر میں طلباء کے قیام سے متعلق اہم قانونی نکتوں پر وکلاء سے مزید دلائل طلب کیے ہیں، جبکہ اس دوران بڑی تعداد میں افغان طلباء بھی عدالت میں موجود تھے۔