LIVE
Loading Breaking News...

انتروپک کا انکشاف: اے آئی سسٹمز اپنے نئے ورژنز خود بنانے کے قریب

News Image
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی انتروپک نے انکشاف کیا ہے کہ اے آئی سسٹمز اپنے مستقبل کے ورژنز خود تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔ کمپنی کے مطابق ان کا کلاڈ چیٹ بوٹ اب ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کے ایک چوتھائی سے زائد کاموں کی خود قیادت کر رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے کی نمایاں ترین کمپنیوں میں سے ایک، انتروپک (Anthropic) نے جمعرات کے روز ایک تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے سسٹمز تیزی سے اس قابل ہو رہے ہیں کہ وہ اپنے مستقبل کے ورژنز خود تیار کر سکیں۔ اس پیش رفت نے طاقتور ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے پہلے سے موجود خدشات کو مزید ہوا دے دی ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران صنعت کے ماہرین کی طرف سے دی جانے والی انتباہی وارننگز اور بعض واقعات کی روشنی میں اے آئی کے خطرات پر بحث میں شدت آ گئی ہے۔ انتروپک کا کہنا ہے کہ ان کا تیار کردہ کلاڈ (Claude) چیٹ بوٹ اس وقت کمپنی کے ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کے پچیس فیصد سے زائد کاموں کی خود قیادت کر رہا ہے، جبکہ انسانی عملے کے ساتھ نوے فیصد سے زیادہ کاموں میں تعاون بھی فراہم کر رہا ہے۔ کمپنی نے وضاحت کی ہے کہ اس معلومات کو عام کرنے کا مقصد عوام، تیسرے فریق اور حکومتوں کو اے آئی کی ترقی کی رفتار سے بہتر طور پر آگاہ کرنا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا اس کی رفتار کو سست کرنے پر غور کر رہی ہے۔ انتروپک کے سی ای او ڈاریو امودی نے رواں ماہ مطالبہ کیا تھا کہ اے آئی کی ترقی کی دوڑ کو سست کیا جانا چاہیے، کیونکہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی تیز رفتار ترقی روزگار کے مواقع چھن جانے کے خدشات کے علاوہ ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب اور ماحولیاتی اثرات کا سبب بن رہی ہے۔ اس کے علاوہ اس خدشے میں بھی اضافہ ہوا ہے کہ اے آئی ایجنٹس کے ڈیزائنرز اپنی بنائی ہوئی تخلیقات پر قابو کھو سکتے ہیں، خصوصاً جب انتروپک اور اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی کے بعض ماڈلز نے مبینہ طور پر اپنے محدود ماحول سے خود بخود باہر نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور مختلف ویب سائٹس میں مداخلت کی۔ انتروپک نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ماڈلز کا اپنی ترقی کو خود تیز کرنا انسانوں کے لیے ان سسٹمز کو سمجھنا یا ان پر قابو پانا مزید مشکل بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان میٹرکس کو شیئر کرنا انتہائی اہم ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ دنیا 'ریکرسیو سیلف امپروومنٹ' (ایک ایسا ماڈل جو خود مختاری کے ساتھ اپنے جانشین کو تیار کر سکے) کے کتنے قریب پہنچ چکی ہے۔ اگست تک کے اعداد و شمار کے مطابق، کلاڈ انتروپک کے آر اینڈ ڈی کے چھبیس فیصد حصے کی قیادت کر رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ انسانی نگرانی میں کسی بھی کام کو شروع سے لے کر آخر تک مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ کلاڈ تاحال 'مکمل طور پر خود مختار' ہو کر کام نہیں کر سکتا۔ فرم کے پاس اس وقت تقریباً تیس ہزار اے آئی ایجنٹس موجود ہیں جو ریسرچ اور انجینئرنگ کے امور انجام دے رہے ہیں۔ صنعت کی سخت ریگولیشن سے متعلق خدشات کے باوجود توقع کی جا رہی ہے کہ انتروپک رواں سال کے آخر تک پبلک مارکیٹس میں اپنی بلاک بسٹر آئی پی او کے ساتھ اوپن اے آئی کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی۔