World
امریکی اسکول حملہ اور ایرانی تنازعہ: اقوام متحدہ کی جنگی جرائم کی رپورٹ
اقوام متحدہ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ایران میں ایک اسکول پر امریکی فضائی حملے کے دوران ممکنہ جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے اس حملے کو جنگی جرم قرار دیا ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
امریکہ کے عسکری طریقہ کار اور اس کے اندرونی نظام جسے 'کل چین' کہا جاتا ہے، کے تحت ایران میں ایک اسکول پر کیے گئے ہلاکت خیز حملے کے بعد عالمی سطح پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس بات کی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس حملے میں ممکنہ طور پر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے، جس کے بعد اس معاملے پر بین الاقوامی تحقیقات کی آوازیں مزید بلند ہو گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا تھا اور اب مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور تنظیموں نے اس کی تہہ تک پہنچنے کے لیے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ بی بی سی اور سی این این سمیت دیگر عالمی میڈیا آؤٹ لیٹس نے اپنی رپورٹس میں اس بات کی تائید کی ہے کہ اسکول اور کھیلوں کے گراؤنڈ پر ہونے والے یہ حملے محض کوئی آپریشنل غلطی نہیں تھے بلکہ ان کے پیچھے واضح عسکری فیصلے کارفرما تھے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے بھی اپنے ردعمل میں اسے ایک واضح جنگی جرم قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ عالمی برادری کو اس معاملے پر خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ دوسری جانب، سیاسی سطح پر بھی اس معاملے پر گرما گرم بحث جاری ہے اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ ایران ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے، اس عسکری کارروائی کے جواز اور قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین قانون اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات کا مطالبہ کر رہی ہیں کہ اس حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ ملوث افراد کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔