Business
پاور سیکٹر اصلاحات کمیٹی کا اجلاس، نائب وزیراعظم کی اہم ہدایات
نائب وزیراعظم نے پاور سیکٹر اصلاحات سے متعلق کمیٹی کے دوسرے اجلاس کی صدارت کی اور توانائی کے شعبے میں بروقت اور پائیدار اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس کے دوران ماہرین نے نئے پاور ٹیرف فریم ورک میں شفافیت اور مستقل مزاجی لانے کی سفارش کی ہے۔
اسلام آباد میں نائب وزیراعظم کی زیر صدارت پاور سیکٹر میں اصلاحات سے متعلق کابینہ کمیٹی کا دوسرا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کے توانائی کے شعبے کو درپیش چیلنجز اور ان کے پائیدار حل کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے کمیٹی کو اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا اور اصلاحاتی عمل کو مزید تیز کرنے کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بجلی کے شعبے میں ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں ملک کی معاشی ترقی کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ حکام نے اس امر پر زور دیا کہ اصلاحاتی عمل کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جانا چاہیے تاکہ صارفین اور قومی معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران پاور مارکیٹ کے قیام اور اس پر عمل درآمد کے مختلف مراحل کا بھی احاطہ کیا گیا۔ ماہرینِ معیشت اور توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے پاور ٹیرف فریم ورک میں مکمل شفافیت اور پیش گوئی کی صلاحیت (پریڈکٹیبلٹی) ہونی چاہیے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے اور عام صارفین کو بھی ریلیف مل سکے۔ کمیٹی کے ارکان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ملک میں توانائی کے نظام کو زیادہ کارآمد، شفاف اور صارف دوست بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ اجلاس کے اختتام پر تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ وہ باہمی مشاورت سے اصلاحاتی ایجنڈے پر فوری عمل درآمد شروع کریں اور اس حوالے سے باقاعدگی سے رپورٹس پیش کی جائیں تاکہ اصلاحات کے ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں۔