Business
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شاندار تیزی، انڈیکس ایک ہزار پوائنٹس بڑھ گیا
بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان دیکھا گیا اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ گئی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں ایک ہزار پوائنٹس سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے دوران ایک شاندار واپسی دیکھنے میں آئی ہے جہاں بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات نمایاں رہے۔ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں کمی کے بعد سرمایہ کاروں نے مارکیٹ میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں ایک ہزار پوائنٹس سے زائد کا طاقتور اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس مثبت رجحان سے سرمایہ کاروں کے اعتماد بحال ہونے میں مدد ملی ہے اور مارکیٹ کے مجموعی ماحول میں بہتری آئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، بینکنگ اور سیمنٹ کے اہم سیکٹرز میں بھرپور خریداری کی گئی جس کی وجہ سے انڈیکس کو بلندی کی طرف جانے میں زبردست مدد ملی۔ حالیہ دنوں میں عالمی مارکیٹ اور جیو پولیٹیکل صورتحال بالخصوص خلیجی خطے اور آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات کی وجہ سے مارکیٹ پر دباو دیکھا گیا تھا اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا تھا۔ تاہم، تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی نے پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے مثبت معاشی اشارے فراہم کیے ہیں جس کا براہ راست اثر مقامی حصص بازار پر پڑا۔
اسٹاک مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ری باؤنڈ سے مارکیٹ کے اندرونی اعصاب مضبوط ہوئے ہیں اور حالیہ مندی کے بعد حصص کی پرکشش قیمتوں پر سرمایہ کاری کا موقع مل رہا ہے۔ کاروباری ہفتے کے دوران مختلف شعبوں میں خریداری کا رحجان جاری رہا جس سے ٹریڈنگ کے حجم میں بھی اضافہ ہوا۔ اگرچہ عالمی معاشی منظر نامے میں اب بھی کچھ خدشات موجود ہیں، لیکن ملکی سطح پر معاشی استحکام اور مثبت اشاریوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
کاروباری حلقوں کی جانب سے اس بحالی کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا جا رہا ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگر معاشی اور سیاسی استحکام کا یہ سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مزید مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ سرمایہ کار اب آئندہ مالیاتی پالیسیوں اور ملکی معاشی اعداد و شمار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کے آئندہ کے رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔