LIVE
Loading Breaking News...

وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کا میڈیا پر پابندی کا فیصلہ

News Image
امریکی صدر نے اپنے سیاسی کیریئر کے دوران ملکی میڈیا کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اہم میڈیا اداروں پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس سے سی این این اور پولیٹیکو کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کی بات کہی ہے۔
واشنگٹن: امریکی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے جب ملک کے صدر نے معروف خبر رساں اداروں سی این این (CNN) اور پولیٹیکو (Politico) پر وائٹ ہاؤس میں پابندی عائد کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس طویل المدتی اور کشیدہ تناؤ کا تسلسل ہے جو امریکی صدر اور اہم امریکی میڈیا ہاؤسز کے درمیان ان کے پورے سیاسی کیریئر کے دوران دیکھا گیا ہے۔ صدر کی جانب سے اس انتہائی اقدام نے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھوٹی ہے۔ امریکی صدر کے اپنے ناقد میڈیا اداروں کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے تلخ رہے ہیں۔ وہ روایتی میڈیا پر اکثر جانبدارانہ رپورٹنگ اور جعلی خبریں پھیلانے کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔ سی این این اور پولیٹیکو جیسے موثر اداروں کے ساتھ ان کی لفظی جنگ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ موجودہ پابندی کا یہ تازہ حکم نامہ اسی تنازع کی اگلی کڑی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ اور پریس کے درمیان خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، میڈیا تنظیموں اور آزادیِ صحافت کے حامیوں نے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیاں جمہوری اقدار اور پریس کی آزادی پر براہ راست حملہ ہیں۔ اس پابندی کے نفاذ کے بعد وائٹ ہاؤس کی پریس کوریج کے حوالے سے ایک غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جبکہ سیاسی مبصرین اسے آئندہ انتخابات اور سیاسی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔