LIVE
Loading Breaking News...

جرمنی نے امریکہ سے پہلا ایف 35 اسٹیلتھ طیارہ حاصل کر لیا

News Image
جرمنی نے لاک ہیڈ مارٹن سے اپنے آرڈر کیے گئے درجنوں ففتھ جنریشن ایف 35 اسٹیلتھ جنگی طیاروں میں سے پہلا طیارہ وصول کر لیا ہے۔ یہ قدم نیٹو اتحادیوں کی جانب سے دفاعی اخراجات میں اضافے اور فوجی صلاحیتوں کو جدید بنانے کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔
برلن: جرمنی نے امریکہ سے اپنے پہلے ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کی وصولی کر لی ہے۔ یہ طیارے ان تقریباً تین درجن جنگی طیاروں کا حصہ ہیں جن کا آرڈر جرمنی نے چار سال قبل امریکی دفاعی سازوسامان بنانے والی معروف کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کو دیا تھا۔ اس سنگ میل کو جرمن فضائیہ کی تاریخ میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ملک اپنے دفاعی ڈھانچے کو جدید ترین تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں مصروف ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مجموعی طور پر نیٹو کے تمام اتحادی ممالک خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدپیش نظر اپنے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کر رہے ہیں۔ ایف 35 طیاروں کو دنیا کے جدید ترین اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے جو دشمن کے ریڈار سے بچنے کی منفرد صلاحیت رکھتے ہیں۔ جرمن فوج کا کہنا ہے کہ ان طیاروں کی شمولیت سے ملک کی فضائی برتری اور دفاعی صلاحیتوں کو مہلک اور مؤثر انداز میں تقویت ملے گی۔ ماہرین کے مطابق، یہ طیارے پرانے ہوتے ہوئے ٹورناڈو جنگی طیاروں کی جگہ لیں گے جو طویل عرصے سے جرمن فضائیہ کا حصہ چلے آ رہے ہیں۔ نئے ایف 35 طیاروں کی آمد سے جرمنی نیٹو کے نیوکلیئر شیئرنگ مشن کو بھی بہتر طریقے سے جاری رکھ سکے گا۔ اس ضمن میں پائلٹوں اور تکنیکی عملے کی تربیت کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے تاکہ ان جدید طیاروں کو جلد از جلد باقاعدہ فلیٹ کا حصہ بنایا جا سکے اور یورپی فضائی حدود کے دفاع کو مزید فول پروف بنایا جا سکے۔