LIVE
Loading Breaking News...

شام: سابق اسد دور کے پانچ فوجی افسران شہریوں پر حملوں کے الزام میں گرفتار

News Image
شام میں سکیورٹی فورسز نے سابق صدر بشار الاسد کے دور حکومت کے پانچ اعلیٰ افسران کو شہریوں پر فضائی حملوں کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار شدگان میں ایک ایئر فورس کا جنرل بھی شامل ہے۔
شام کے سکیورٹی اداروں نے ملک بھر میں ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے سابق صدر بشار الاسد کے دور حکومت میں خدمات انجام دینے والے پانچ سابق فوجی افسران کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں عام شہریوں کے خلاف کیے جانے والے فضائی حملوں اور دیگر فوجی کارروائیوں میں براہ راست حصہ لیا تھا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق، یہ گرفتاریاں ایک خصوصی اور مربوط آپریشن کے دوران عمل میں لائی گئیں۔ ان پانچ افسران میں ایک ایئر فورس کا جنرل بھی شامل ہے، جو سابقہ حکومت کے دوران فضائی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افسران کے خلاف شواہد کی روشنی میں تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ ماضی میں ہونے والے مظالم کے حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ شام میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سے سابقہ حکومت کے عہدیداروں اور سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف احتساب کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملنے کی راہ ہموار ہوگی۔ دوسری جانب، ملک کے مختلف شہروں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ان افراد کی تلاش اور تحقیقات میں مصروف ہیں جو جنگی جرائم یا انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔