LIVE
Loading Breaking News...

لبنانی فنکارہ کا اسرائیلی میزائل ملبے سے فن پارے بنانے کا انوکھا کارنامہ

News Image
جنوبی لبنان سے تعلق رکھنے والی ایک بصری فنکارہ نے اسرائیلی حملوں کے بعد بچ جانے والے میزائلوں کے ملبے سے دلکش فن پارے تخلیق کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اس انوکھے اقدام کا مقصد جنگی تباہی کو امن، امید اور تخلیقی صلاحیت کی علامت میں تبدیل کرنا ہے۔
جنوبی لبنان کے کشیدہ علاقوں میں جہاں جنگ اور تباہی کے نشانات ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں، ایک مقامی بصری فنکارہ لینا جونی نے امید اور تخلیق کی ایک انوکھا مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی فضائی حملوں اور بمباری کے نتیجے میں گرنے والے میزائلوں اور گولہ بارود کے بے کار ملبے کو جمع کر کے اسے دلکش فن پاروں کی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ یہ مہم نہ صرف ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ یہ اس خطے کے عوام کی لچک اور بقا کی جنگ کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے دوران جنوبی لبنان کے مختلف شہروں اور دیہاتوں کو شدید نقصان پہنچا، جہاں روزمرہ کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ تاہم، ان مشکل حالات میں بھی لینا جونی نے تباہی کے اسٹوڈیو کو تخلیق کا مرکز بنا لیا۔ وہ دھات کے ان ٹکڑوں، میزائل کے خولوں اور بموں کے بقایاجات کو نہایت مہارت سے تراش کر ایسے مجسمے اور فن پارے تیار کرتی ہیں جو جنگ کی ہولناکیوں کے ساتھ ساتھ امن اور انسانیت کا پیغام بھی دیتے ہیں۔ ان کے اس کام کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر بے حد سراہا جا رہا ہے کیونکہ یہ دکھ اور اذیت کو خوبصورتی میں تبدیل کرنے کا ایک منفرد ذریعہ ہے۔ لینا جونی کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد آنے والی نسلوں کو یہ بتانا ہے کہ ہم نے کتنی سختیاں جھیلی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم نے ان تباہ کن ہتھیاروں کو بھی شکست دے کر فن اور ثقافت میں بدل دیا۔ یہ فن پارے اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ انسانی تخلیقی قوت ہمیشہ تباہی پر بھاری پڑتی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور آرٹ کے نقادان بھی اس لبنانی فنکارہ کی جرأت اور فن کو سراہ رہے ہیں، جو جنگ زدہ خطے میں بیٹھ کر امن اور تخلیق کا پیغام دنیا تک پہنچا رہی ہیں۔