LIVE
Loading Breaking News...

ایمان مزاری اور ہادی علی نئے مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

News Image
سپریم کورٹ کی طرف سے سزائیں معطل کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوهر کو ایک اور مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ پولیس کی جانب سے جوڑے کے تیس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو عدالت نے مسترد کر دیا۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ کی جانب سے انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل کیے جانے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی، اسلام آباد کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پولیس کی جانب سے جوڑے کے تیس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب جوڑے کو کوہسار پولیس اسٹیشن میں درج ایک مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ رہائی کی خبر ملتے ہی ایس ایس پی آپریشنز کی قیادت میں اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری اڈیالہ جیل پہنچی اور دونوں کو اس نئے مقدمے میں دوبارہ حراست میں لے لیا۔ قبل ازیں، سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کے کیس میں جوڑے کی سزائیں معطل کرتے ہوئے انہیں دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ فیصلہ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر سنایا جس میں عدالت عالیہ نے سزائیں معطل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ دونوں وکلاء ہیں اور عدالت ان کے اعزاز کا خیال رکھ رہی ہے، تاہم انہوں نے وکیل فیصل صدیقی کو ہدایت کی کہ وہ اپیل کنندگان کو عدالت کا وقار برقرار رکھنے کا کہیں کیونکہ ایک وکیل اور عام شخص میں فرق ہوتا ہے۔ کوہسار پولیس اسٹیشن کا یہ مقدمہ رواں سال 22 مارچ کو سٹی مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ چنڈیو کی مدعی میں درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں ایمان اور ان کے شوہر پر حکومت مخالف نعرے بازی کرنے اور سڑکیں بند کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے، تاہم ابتدائی طور پر اس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی کوئی دفعہ شامل نہیں کی گئی تھی۔ مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188، 341، 506، 353 اور 186 شامل کی گئی تھیں جن کے تحت سرکاری امور میں مداخلت اور سرکاری ملازمین کو ڈیوٹی سے روکنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ایمان مزاری کی والدہ اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوڑے کو کسی نہ کسی طرح جیل میں رکھنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دریں اثنا، اسلام آباد پولیس کی جانب سے جوڑے کو دوبارہ حراست میں لیے جانے اور انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کرنے کے عمل پر قانونی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا جبکہ ہائیکورٹ میں اپیلوں کی حتمی سماعت تاحال باقی ہے۔