World
پینٹاگون کا فوجیوں کے لیے متنازعہ ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹنگ پروگرام بحال
امریکہ کے محکمہ دفاع نے تیس سال اور اس سے زائد عمر کے فوجیوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کا لازمی ٹیسٹنگ پروگرام دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹیسٹوسٹیرون کا غلط استعمال کیا گیا تو اس سے فوجیوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکہ کے محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون نے تیس سال اور اس سے زائد عمر کے تمام امریکی سروس ممبران کے لیے ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کا لازمی جانچ پروگرام دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعرات کے روز ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ اس پروگرام کو بحال کر دیا گیا ہے، جسے ماضی میں متعدد طبی ماہرین غیر ضروری اور ممکنہ طور پر نقصان دہ قرار دے چکے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ، جنہوں نے فوجی تیاری کو بہتر بنانے کے لیے ٹیسٹوسٹیرون کے استعمال کی وکایت کی تھی، نے سب سے پہلے جولائی میں اس لازمی اسکریننگ کا اعلان کیا تھا۔ جاری کردہ ابتدائی ہدایات کے تحت خواتین کا بھی سوال نامے کے ذریعے معائنہ کیا جانا تھا تاکہ ہارمونل عدم توازن کے حالات کا علاج کیا جا سکے۔ تاہم ستمبر کے اوائل میں پینٹاگون نے اس پالیسی کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا تاکہ اس میں ضروری ترامیم اور اپ ڈیٹس کی جا سکیں۔ تازہ ترین اقدام کے بعد یہ عارضی وقفہ ختم ہو چکا ہے اور ٹیسٹنگ کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اصل پالیسی میں کون سی تبدیلیاں یا اپ ڈیٹس کی گئی ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ہدایات فوری طور پر مؤثر ہوں گی اور مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کو دور کرتے ہوئے یکساں اسکریننگ اور علاج کے راستے قائم کرتی ہیں۔ دوسری جانب، طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹیسٹوسٹیرون نامناسب طریقے سے تجویز کیا جائے تو اس سے سروس ممبران میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے یا صحت سے جڑے دیگر سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس متنازعہ پروگرام کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد دفاعی اور طبی حلقوں میں بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایک طرف فوجی صلاحیت کو بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف فوجیوں کی صحت کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔