World
لیمبتھ پیلس نے طاہر اشرفی کا ایوارڈ واپس لے لیا
چیئرمین پاکستان علماء کونسل طاہر اشرفی کو دیا جانے والا صلح اور بین المذاہب تعاون کا ایوارڈ واپس لے لیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ موصوف کے ماضی میں اسامہ بن لادن سے متعلق دیے گئے بیانات کی وجہ سے کیا گیا۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور نیشنل پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر مولانا محمد طاہر محمود اشرفی کو دیے جانے والے ایوارڈ کے معاملے پر ڈرامائی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ برطانوی دارالحکومت میں واقع تاریخی مقام لیمبتھ پیلس کے گریٹ ہال میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جہاں انہیں ری کنسیلیشن اینڈ انٹر فیتھ کوآپریشن کے لیے معروف ہیوبرٹ والٹر ایوارڈ سے نوازا جانا تھا۔ اس تقریب کا مقصد بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے خدمات انجام دینے والی شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔
تاہم، تقریب کے روز ہی صورتحال اس وقت یکسر تبدیل ہو گئی جب لیمبتھ پیلس کی انتظامیہ نے یہ ایوارڈ اسی روز واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ منتظمین کے مطابق یہ فیصلہ موصوف کے ماضی میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن سے متعلق دیے گئے متنازع بیانات اور موقف کی روشنی میں کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ماضی کے ان بیانات پر شدید تنقید اور ردعمل سامنے آنے کے بعد برطانوی مذہبی حکام کو اپنی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینا پڑا جس کے نتیجے میں یہ ناخوشگوار اقدام اٹھایا گیا۔
اس فیصلے سے مذہبی اور سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں ایک طرف امن کے فروغ کے لیے رابطوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف شخصیات کے ماضی کے متنازع بیانات کو بھی سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ پاکستان علماء کونسل اور متعلقہ حکام کی طرف سے اس اچانک فیصلے پر تا حال کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر اس واقعے کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔