LIVE
Loading Breaking News...

نریندر مودی کا امتحان پیپر لیک احتجاجی طلباء کو معاف کرنے کا اعلان

News Image
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحان کے پرچے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء کو معاف کرنے کا اعلان کیا ہے جن پر انہیں گالیاں دینے کا الزام تھا۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کو معافی نہیں بلکہ نوجوانوں سے خود معافی مانگنی چاہیے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے حال ہی میں ملک بھر میں ہونے والے امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے نوجوانوں اور طلباء کے حوالے سے ایک اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ ان تمام نوجوانوں اور مظاہرین کو دل سے معاف کرتے جنہوں نے ان احتجاجی مظاہروں کے دوران مبینہ طور پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور نعرے بازی کی۔ ان مظاہروں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی جو تعلیمی نظام میں خرابیوں اور بدعنوانیوں کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ نریندر مودی کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والے طلباء کو سخت سزائیں دینے یا ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے موجودہ مسائل کا کوئی حل نہیں نکل سکتا۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ حکومت کا مقصد نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے اور اگر اس دوران طلباء کے جذبات مشتعل ہوئے ہیں تو وہ ان کے غصے کو درگزر کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت تعلیمی اداروں اور امتحانات کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ دوسری جانب وزیراعظم مودی کے اس بیان پر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی اور دیگر رہنماؤں نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے اب تک کسی متاثرہ طالب علم یا والدین سے ملاقات نہیں کی اور وہ اصل مسائل سے توجہ ہٹا رہے ہیں۔ کانگریس کا مؤقف ہے کہ وزیراعظم کو نوجوانوں کو 'معاف' کرنے کے بجائے خود ملک کے کروڑوں نوجوانوں سے امتحان کے نظام کی ناکامی پر معافی مانگنی چاہیے۔ امتحان کے پرچے لیک ہونے کا یہ معاملہ بھارت میں ایک بڑا سیاسی اور سماجی مدعا بن چکا ہے جس نے حکومتی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ لاکھوں طلباء اس بات سے پریشان ہیں کہ ان کی سالوں کی محنت بدانتظامی کی نذر ہو جاتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حکومتی سطح پر اس معاملے پر نرمی کا اظہار اور اپوزیشن کی جانب سے شدید ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں نوجوانوں کا یہ مسئلہ بھارتی سیاست میں اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔