World
اقوام متحدہ: پاکستان نے ایران پابندیوں کی قرارداد پر ووٹنگ سے اجتناب کیا
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے حوالے سے پابندیوں کے پینل کی ووٹنگ میں غیر جانبدار رہتے ہوئے شرکت نہیں کی۔ پاکستانی مندوب نے واضح کیا ہے کہ ایران کے جوہری مسئلے کا واحد حل بات چیت اور سفارت کاری میں پوشیدہ ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران کے جوہری معاملے اور اس سے متعلقہ پابندیوں کے پینل کی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس پیچیدہ مسئلے کا پائیدار حل صرف اور صرف بامعنی سفارت کاری اور سیاسی بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اجلاس کے دوران پاکستانی مندوب نے عالمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ بین الاقوامی معائنہ کاروں اور ایجنسی کو تکنیکی بنیادوں پر اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ یکطرفہ اقدامات سے خطے کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں، اس لیے تمام تر توجہ سفارتی کوششوں کی بحالی پر ہونی چاہیے تاکہ خطے کو کسی بھی نئی کشیدگی سے بچایا جا سکے۔
پاکستان کا یہ مؤقف ملک کی متوازن خارجہ پالیسی کا عکاس ہے جو خطے میں امن، سلامتی اور باہمی تعاون کی خواہاں ہے۔ اسلام آباد کی طرف سے بارہا یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور خطے میں استحکام کے لیے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا ناگزیر ہے۔ مبصرین کے مطابق، پاکستان کا اس ووٹنگ سے دور رہنا ایک سنجیدہ سفارتی اقدام ہے جس کا مقصد خطے میں جاری تناؤ کو کم کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہے۔