LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ نیویارک اور اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا اجلاس

News Image
وزیراعظم محمد شہباز شریف اگلے ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس دورے کے دوران وہ عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے اور مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت فلسطین کے امور پر بھرپور آواز اٹھائیں گے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں شرکت کے لیے امریکی شہر نیویارک کا دورہ کریں گے، جہاں وہ پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس دورے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وزیراعظم کے اس دورے کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کرنا اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے عالمی برادری کو درپیش اہم چیلنجز اور علاقائی امن کے حوالے سے پاکستان کے عزم سے آگاہ کریں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، وزیراعظم کے اس دورے کا ایک اہم ترین ایجنڈا بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر (IIOJK) اور فلسطین کی ابتر صورتحال کو عالمی سطح پر اٹھانا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اپنے خطاب میں کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم اور حق خود ارادیت کی حمایت پر زور دیں گے۔ اس کے علاوہ، غزہ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے تناظر میں بھی پاکستان اپنا دوٹوک اور پرامن مؤقف پیش کرے گا تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے۔ نیویارک میں قیام کے دوران، وزیراعظم شہباز شریف کی مختلفممالک کے سربراہان مملکت اور حکومتوں کے ساتھ اہم ملاقاتیں بھی طے پاتی ہیں۔ ان دوطرفہ ملاقاتوں میں معاشی تعاون، تجارت، علاقائی سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے سنجیدہ امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وزیراعظم دنیا بھر کے رہنماؤں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور معاشی اصلاحات کے حوالے سے بھی بریفنگ دیں گے۔ مزید برآں، دفتر خارجہ کے ترجمان نے باب المندب کے خطے میں رونما ہونے والی تازہ ترین صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ سمندری تجارت کے اس اہم گزرگاہ پر امن و استحکام عالمی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، وزیراعظم کا یہ دورہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔