LIVE
Loading Breaking News...

بجلی مہنگی ہونے کا امکان، سی پی پی اے کی فی یونٹ اضافے کی درخواست

News Image
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے ماہانہ फ्यूل ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست جمع کرا دی ہے۔ نیپرا اس درخواست پر سماعت کر کے حتمی فیصلہ صادر کرے گا۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) ملک میں مہنگائی کے ستائے عوام پر ایک بار پھر بجلی بم گرنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA) نے ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمتوں میں 1 روپے 73 پیسے فی یونٹ اضافے کی باضابطہ درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) کو جمع کرا دی ہے۔ اس درخواست پر نیپرا کی جانب سے آئندہ ہفتے کے دوران باضابطہ سماعت کی جائے گی جس میں تمام متعلقہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ ابتدائی ذرائع کے مطابق یہ اضافہ رواں مالی سال کے ایک مخصوص ماہ کے اُمور اور فیول اخراجات کی بنیاد پر مانگا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن بالخصوص ایل این جی، درآمدی کوئلے اور فرنس آئل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث بجلی کی پیداواری لاگت میں فرق آیا ہے جس کی وجہ سے ڈسٹ্রি بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کو مالیاتی بوجھ کا سامنا ہے۔ سی پی پی اے کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مطلوبہ ہندسوں کے حصول کے لیے صارفین پر یہ اضافی مالی بوجھ ڈالنا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ پاور سیکٹر کے مالیاتی توازن کو برقرار رکھا جا सके اور دورانِ ماہ آنے والے اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔ دوسری جانب، اس مجوزہ اضافے سے عام صارفین اور صنعتی شعبے میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین اقتصادیات اور کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی سے بلند و بالا بجلی کے بلوں کے بوجھ تلے دبے صارفین کے لیے یہ اضافی بوجھ ناقابلِ برداشت ثابت ہو گا، اور اس سے ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ صنعتکاروں کا بھی ماننا ہے کہ پیداواری لاگت میں مزید اضافے سے برآمدی مسابقت متاثر ہوگی۔ نیپرا اس درخواست پر تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گا۔ سماعت کے دوران صارفین کے حقوق کے نمائندے اور عوامی حلقے اپنے تحفظات کا اظہار کریں گے۔ اگر نیپرا اس اضافے کی منظوری دیتا ہے تو اس کا اطلاق ملک بھر کے تمام ڈسٹ্রি بیوشن کمپنیوں کے صارفین کے اگلے ماہ کے بجلی کے بلوں میں کیا جائے گا، جس سے صارفین کو اربوں روپے کا اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔