Business
گندم کی درآمد پر پنجاب اور کے پی کا یوٹرن، مانگ کم کر دی گئی
صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا نے گندم کی درآمد کے حوالے سے اپنے مؤقف میں تبدیلی کرتے ہوئے مانگ میں دو لاکھ ٹن کی کٹوتی کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ملکی زرعی منڈی اور مقامی کاشتکاروں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
ملکی زرعی اور خوراک کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے تحت، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے گندم کی درآمد کے حوالے سے اپنے سابقہ فیصلوں میں تبدیلی کرتے ہوئے درآمدی مانگ میں دو لاکھ ٹن کی نمایاں کمی کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ملک میں گندم کے موجودہ ذخائر اور مقامی کسانوں کی پیداوار کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ کاشتکاروں کو ان کی فصل کا مناسب معاوضہ مل سکے۔ اس اقدام سے درآمدی بل میں بھی کمی واقع ہونے کا امکان ہے جو ملکی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ صوبائی محکموں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گندم کی طلب میں اس کمی کے بعد اب نئی حکمت عملی کے تحت درآمدی عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے مقامی منڈی میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام آنے کی توقع ہے، کیونکہ حکومتیں اب درآمدی اجناس کے مقابلے میں مقامی پیداوار کی کھپت پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں۔ دوسری جانب، کسان اتحادوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے مقامی زراعت کے حق میں ایک بہتر قدم قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس سے کسانوں کے حوصلے بلند ہوں گے اور وہ آئندہ س فصلوں کی کاشت میں زیادہ دلچسپی لیں گے۔ وفاقی حکومت اور متعلقہ ادارے اب اس پوری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ غذایی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کی قلت سے بچا جا سکے۔