LIVE
Loading Breaking News...

حکومت اور جماعت اسلامی مذاکرات ناکام، لانگ مارچ پر ڈیڈلاک برقرار

News Image
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے کیونکہ اسلام آباد انتظامیہ نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر لانگ مارچ میں تاخیر کی درخواست کی ہے۔ اس کے باوجود جماعت اسلامی نے اپنے اعلانات پر قائم رہتے ہوئے احتجاجی سلسلہ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
اسلام آباد میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور جماعت اسلامی کے مجوزہ احتجاجی لانگ مارچ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم کسی قابلِ ذکر پیشرفت کا امکان پیدا نہ ہو سکا۔ وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے ملک میں موجودہ سکیورٹی خدشات اور خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے جماعت اسلامی کی قیادت سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے طے شدہ لانگ مارچ کو کچھ عرصے کے لیے موخر کر دیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی نے حکومت کی اس درخواست کے باوجود اپنے احتجاجی پروگرام کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ مہنگائی، عوام پر اضافی ٹیکسوں کے بوجھ اور دیگر عوامی مسائل کے خلاف آواز اٹھانا ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے، جسے سکیورٹی کے بہانے سے دبایا نہیں جا سکتا۔ جماعت اسلامی کی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان کی تجاویز کو تسلیم کر لیا ہوتا تو اربوں روپے کی بچت کی جا سکتی تھی لیکن حکومتی سطح پر سنجیدگی کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ جڑواں شہروں کی انتظامیہ اس وقت ہائی الرٹ پر ہے کیونکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بیک وقت کئی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے لانگ مارچ متوقع ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سخت انتظامات شروع کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کا بھی خدشہ ہے۔ شہریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ سفر کے دوران متبادل راستوں کا انتخاب کریں تاکہ کسی بھی ٹریفک جام یا ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس تازہ ڈیڈلاک کے بعد سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر دونوں فریقین کے درمیان کوئی درمیانی راستہ نہ نکالا گیا تو تصادم کی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔ عوام کی نظریں اب جماعت اسلامی کے آئندہ کے لائحہ عمل اور حکومتی ردعمل پر مرکوز ہیں کہ آیا اس بحران کا پرامن حل نکالا جاتا ہے یا احتجاجی تحریک میں مزید تیزی آتی ہے۔