Technology
ٹرمپ کا 'اے آئی فورس' بنانے کا اعلان، ٹیکنالوجی پر بحث تیز
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات اور بحث کے درمیان ایک نئی 'اے آئی فورس' تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اس ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار اور اس سے جڑے چیلنجز سے نمٹنا ہے۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے تیزی سے ہوتے ہوئے فروغ اور اس پر بڑھتے ہوئے عالمی خدشات کے پیش نظر ایک نئی 'اے آئی فورس' بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد تکنیکی اور سیاسی حلقوں میں بحث کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، کیونکہ ماہرین اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات اور فوائد پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ فنانشل ٹائمز اور دیگر مؤقر خبر رساں اداروں کے مطابق، ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ جلد ہی ایک نئے اے آئی مشیر کا تقرر بھی کریں گے، تاہم اس حوالے سے فی الحال تفصیلی لائحہ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
رائٹرز اور ڈان نیوز کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نہ صرف 'اے آئی فورس' تشکیل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں بلکہ اس شعبے کے لیے ایک خصوصی 'اے آئی زار' (Czar) بھی مقرر کریں گے۔ یہ تقرری اس بات کی غماز ہے کہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے وفاقی سطح پر حکمت عملی کو مرکزی شکل دی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب، نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اندر اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے مباحثے کافی پیچیدہ نوعیت کے ہیں، جہاں بعض حلقے اس کے خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے کی بات کرتے ہیں تو کچھ اس پر کڑے ضوابط کی وکالت کرتے ہیں۔
سی این بی سی کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت سے جڑی وارننگز پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت اور اضافی ضابطہ کاری پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ زیادہ قدغنیں لگانے سے امریکہ اس تکنیکی دوڑ میں پیچھے رہ سکتا ہے۔ عالمی سطح پر یہ ڈیبیٹ اب زور پکڑ رہی ہے کہ کس طرح اے آئی کی تیز رفتار ترقی کو محفوظ بنایا جائے اور ساتھ ہی اس کی اقتصادی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے 'اے آئی فورس' کا قیام آنے والے برسوں میں امریکہ کی ڈیجیٹل اور تکنیکی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔