World
عمان کے قریب ٹینکرز پر حملہ اور ایران کی جانب سے بحری راستے بند کرنے کی دھمکی
عمان کے قریب آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دو خلاف ورزی کرنے والے ٹینکرز کو نااہل کر دیا ہے۔
عمان کے قریب سمندری حدود میں تیل بردار ٹینکرز کو مسلح حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران کی جانب سے اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کو بند کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی بحریہ کے حصار میں جانے والے ٹینکرز کو آبنائے ہرمز کے قریب نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق صورتحال کے پیش نظر امریکی حکام نے ہنگامی مشاورت کا آغاز کر دیا ہے تاکہ خطے میں بحری تجارت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایرانی سرکاری ذرائع اور پاسداران انقلاب کے بیانات کے مطابق، مبینہ طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے دو آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز میں کارروائی کرتے ہوئے روکا اور ناکارہ بنایا گیا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب مغربی ممالک اور امریکہ نے اس واقعے کو عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ اس تنازع کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی و عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس بحران کو سفارتی سطح پر جلد حل نہ کیا گیا تو یہ ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔