LIVE
Loading Breaking News...

روس کے توانائی شعبے پر امریکی پابندیوں کا بل اور عالمی ردعمل

News Image
امریکہ کی جانب سے روس کے توانائی کے شعبے پر پابندیوں کا نیا بل متعارف کرا دیا گیا ہے جس سے عالمی سطح پر سیاسی اور معاشی ہلچل مچ گئی ہے۔ چین نے اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر یکطرفہ پابندیوں کی شدید مخالفت کی ہے۔
امریکہ کی جانب سے روس کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بناتے ہوئے ایک نیا سخت پابندیوں کا بل متعارف کرایا گیا ہے، جس نے عالمی سطح پر سیاسی ہلچل مچ دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئے بل کے ذریعے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وسیع تر نئے ٹیرف اختیارات حاصل ہو جائیں گے، جنہیں وہ روس اور دیگر متعلقہ ممالک کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔ اس اقدام نے نہ صرف ماسکو کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے بلکہ اس کے اثرات دیگر ممالک کی معیشتوں پر بھی پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے بھارت کے لیے بھی ایک پیچیدہ سفارتی امتحان کھڑا کر دیا ہے کیونکہ واشنگٹن کے ان نئے اقدامات سے نئی دہلی کی توانائی کی درآمدات اور پالیسیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب، چین نے امریکہ کی جانب سے روس اور ایران پر پابندیوں کو مزید سخت کرنے والے اس نئے قانون کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی باضابطہ منظوری کے بغیر اس قسم کی یکطرفہ پابندیاں بین الاقوامی اصولوں اور عالمی تجارت کے خلاف ہیں، جو دنیا بھر میں معاشی استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نئے بل سے امریکہ اور اس کے حریف ممالک کے درمیان تجارتی اور سیاسی تناؤ میں مزید شدت آئے گی، جبکہ آنے والے دنوں میں عالمی توانائی کی منڈیوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔