LIVE
Loading Breaking News...

کابل میں طالبان کے پانچ سال: زمینی حقائق اور تجزیہ

News Image
افغانستان میں طالبان کی واپسی کو پانچ سال مکمل ہو چکے ہیں جن کا احاطہ بین الاقوامی رپورٹس میں ناکامیوں اور پابندیوں کے طور پر کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ملک میں خواتین اور شہریوں کی آزادیوں پر پابندیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت پورے ملک میں طالبان کی واپسی کو پانچ سال مکمل ہو چکے ہیں اور اس دوران یہاں کی زندگی میں گہری تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، یہ پانچ سال بنیادی طور پر اقتصادی مشکلات، ٹوٹے ہوئے وعدوں اور سیکیورٹی خدشات سے عبارت رہے ہیں۔ ان رپورٹس میں کابل کے اندرونی حالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے جہاں عام شہریوں بالخصوص نچلے طبقے کے لیے روزگار کے مواقع انتہائی محدود ہو چکے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹس میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں میں مسلسل وسعت آ رہی ہے۔ بالخصوص خواتین کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت پر سخت ترین پابندیاں عائد ہیں جس کی وجہ سے ملک کی نصف آبادی کو شدید مسائل کا سامنا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کی کوششیں بھی ان داخلی پالیسیوں کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں۔ دوسری جانب، حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ تاہم معاشی محاذ پر عام عوام کو جن کٹھناइयों کا سامنا ہے، اس نے دارالحکومت کابل سمیت تمام بڑے شہروں کی رونقوں کو ماند کر دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری افغانستان میں انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے لیکن سیاسی تسلیم شدگی اور بنیادی حقوق کی بحالی کے بغیر طویل المدتی استحکام سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔