Business
پاکستان میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کا اضافہ
عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کے نرخ بڑھنے کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں بھی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی عوامل کی وجہ سے سونے کی تجارت میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے براہ راست اثرات پاکستانی صرافہ بازاروں پر بھی پڑے ہیں، جہاں فی تولہ سونے کی قیمت میں چھ ہزار نو سو روپے کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی منڈی میں سونے کے نرخ بلند ہونے کی وجہ سے مقامی سطح پر بھی کاروباری سرگرمیوں میں اس کا اثر فوری طور پر محسوس کیا گیا اور خریداروں کے لیے سونے کی خریداری مزید مہنگی ہو گئی ہے۔ تجارتی ذرائع کے مطابق بین الاقوامی سطح پر سونے کی پوزیشن مستحکم ہونے اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھنے کے باعث بلین مارکیٹ میں تیزی کا یہ رجحان سامنے آیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی حالات، مہنگائی کے خدشات اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ ایسے بنیادی عوامل ہیں جو سونے کی قیمتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں ہونے والی ان تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان کے مقامی صرافہ بازاروں میں بھی قیمتوں کے تعین پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور صرافہ ایسوسی ایشنز نے بھی نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب مقامی مارکیٹ میں سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث جیولرز اور صرافہ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس تیزی سے عام گاہک کی خرید و فروخت کی صلاحیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ شادی بیاہ کے سیزن یا عام دنوں میں بھی سونے کی اس قدر بلند قیمتوں کی وجہ سے روایتی خریدار اب محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور مارکیٹ میں مندی کا رجحان بھی دیکھا جا رہا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں استحکام نہیں آتا، تب تک پاکستانی مارکیٹ میں بھی اسی طرح کے اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔