Entertainment
ایڈ شیراں کا کنسرٹ غزہ تنازعے کے باوجود منعقد ہوگا
برطانوی گلوکار ایڈ شیراں کا متنازعہ کنسرٹ غزہ کے معاملے پر بڑے پیمانے پر احتجاج اور عوامی تنقید کے باوجود طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوگا۔ اس سیاق و سباق میں آرٹسٹوں اور منتظمین کو دنیا بھر میں شدید ثقافتی و سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
برطانوی پاپ گلوکار ایڈ شیراں کا متنازعہ کنسرٹ غزہ کی صورتحال پر پیدا ہونے والے شدید عوامی احتجاج اور تنازعے کے باوجود منعقد کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کنسرٹ اور اس کے گرد گھومنے والے سیاق و سباق نے عالمی میڈیا بالخصوص الجزیرہ اور بی بی سی کی سرخیاں بٹوری ہیں، جہاں اسے فنکاروں اور سیاسی مؤقف کے ٹکراؤ کی ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ٹور نے اس وقت ایک طوفان کی شکل اختیار کر لی جب مداحوں اور مختلف تنظیموں کی جانب سے غزہ میں جاری انسانی بحران کے تناظر میں فنکاروں کی خاموشی یا مبینہ جانب داری پر سوالات اٹھائے گئے۔ اس پورے معاملے کو دی گارڈین اور دیگر نشریاتی اداروں نے ایک ثقافتی جنگ قرار دیا ہے جس میں شائقین، پروموٹرز اور خود فنکار ایک عجیب کشمکش کا شکار نظر آتے ہیں۔
اس تنازعے کی لپیٹ میں صرف ایڈ شیراں ہی نہیں بلکہ دیگر نامور فنکار جیسے کہ میکلمور بھی آئے ہیں، جن کی شمولیت یا پابندی کے حوالے سے مختلف حلقوں میں گرما گرم بحث جاری ہے۔ رابرٹ کرافٹ جیسے با اثر افراد کی جانب سے بعض فنکاروں پر پابندیوں کے دفاع نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ دور میں فن اور سیاست کو الگ کرنا اب ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
تمام تر دباؤ، تنقید اور احتجاج کے باوجود منتظمین نے کنسرٹ کو منسوخ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد کنسرٹ کے مقامات پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان اور جنگ مخالف گروپوں کی جانب سے پرامن احتجاج کا سلسلہ بھی جاری رہنے کی توقع کی جارہی ہے۔