LIVE
Loading Breaking News...

سعودی دارالحکومت ریاض پر حوثی باغیوں کا میزائل حملہ، پروازیں تاخیر کا شکار

News Image
یمن کے حوثی گروہ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے جس میں ہوائی اڈے پر موجود ایندھن کے ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں فلائٹ آپریشنز میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کو بیلسٹک میزائل حملے کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں ریاض ہوائی اڈے کے قریب واقع ایک ایندھن کے ڈپو کو نقصان پہنچا ہے، جس سے ہفتے کے روز ہوائی اڈے پر آنے جانے والی پروازیں شدید تاخیر کا شکار ہوگئیں۔ یہ واقعہ خطے میں جاری اس طویل اور پرتشدد تنازعے کا ایک اور خطرناک موڑ ہے جو سعودی عرب اور یمن کے درمیان گذشتہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حملے کے بعد سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں اور متعلقہ حکام صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ حملے کے فوراً بعد فائر فائٹرز اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں تاکہ ایندھن کے ڈپو میں لگنے والی آگ پر قابو پایا جا سکے اور مزید نقصان کو روکا جا سکے۔ اس نوعیت کے حملے نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ بین الاقوامی پروازوں کے شیڈول کو بھی درہم برہم کر دیتے ہیں جس سے عام مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے یمن کے حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب کے شہری علاقوں اور تنصیبات پر ہونے والے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں اور سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا لگ رہا ہے۔ سعودی حکام نے ابھی تک اس حملے کے حتمی نقصانات کے بارے میں تفصیلی بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم ملک میں حفاظتی اقدامات کو مزید ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔