Politics
ٹرمپ کی میڈیا کے خلاف جنگ میں شدت اور سیاسی تجزیہ
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشکلات سے بھرپور ایک ہفتے کے بعد ذرائع ابلاغ کے ساتھ اپنی کشمکش کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس تنازع سے سیاسی میدان میں ایک بار پھر گرما گرمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاسی محاذ پر مشکلات سے بھرپور ایک ہفتے کے اختتام پر ذرائع ابلاغ کے ساتھ اپنی کشمکش کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے میڈیا پر مسلسل تنقید اور تلخی میں یہ اضافہ اس بات کا غماز ہے کہ وہ سیاسی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے روایتی جارحانہ حکمت عملی پر کاربند ہیں۔ حالیہ دنوں میں انہیں بعض قانونی اور سیاسی محاذوں پر ہزیمت اٹھانی پڑی تھی، جس کے بعد انہوں نے اپنی توجہ میڈیا کی جانب مبذول کراتے ہوئے حملے تیز کر دیے ہیں۔ بی بی سی کے تجزیہ کار کے مطابق، یہ حکمت عملی ان کے حامیوں کو متحرک رکھنے کے لیے ایک سوچی سمجھੀ مہم کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ ٹرمپ نے ہمیشہ سے مین اسٹریم میڈیا کو اپنا مخالف قرار دیا ہے اور وہ اپنے بیانیے کو تقویت دینے کے لیے میڈیا مخالف جذبات کو ہوا دینے سے گریز نہیں کرتے۔
گزشتہ ہفتے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کو کئی اہم قانونی اور انتخابی محاذوں پر ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان تمام تر مشکلات سے توجہ ہٹانے یا ان کا توڑ کرنے کے لیے انہوں نے ایک بار پھر میڈیا کو اپنا بنیادی نشانہ بنایا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ اندازِ سیاست نیا نہیں ہے بلکہ وہ بحران کی ہر گھڑی میں جارحانہ ردعمل دینے کی شہرت رکھتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے ساتھ ان کا یہ تنازعہ امریکی معاشرے میں بڑھتے ہوئے سیاسی پولرائزیشن کو بھی ظاہر کرتا ہے، جہاں ہر واقعہ کو مختلف زاویوں سے دیکھا اور پیش کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب، میڈیا اداروں اور صحافتی تنظیموں نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان کے طرزِ عمل کو غیر جمہوری قرار دیا ہے۔ صحافتی حلقوں کا موقف ہے کہ آزاد میڈیا کا کام سچائی کو سامنے لانا اور طاقتور شخصیات کا محاسبہ کرنا ہے، جسے دباؤ کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا۔ جیسے جیسے آئندہ انتخابات کا وقت قریب آ رہا ہے، سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ میڈیا دشمنی آنے والے دنوں میں ان کی انتخابی مہم کا ایک اہم اور متنازعہ حصہ بنی رہے گی، جس پر پوری دنیا کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔