Politics
وائٹ ہاؤس میڈیا پابندی: صحافیوں کے پریس بیجز ضبط
امریکی میڈیا اداروں کی جانب سے رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پابندی کے بعد متعدد صحافیوں کے وائٹ ہاؤس پریس بیجز ضبط کر لیے گئے ہیں۔ اس اقدام پر صحافتی تنظیموں اور میڈیا اداروں کی طرف سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کیے جانے کا تازہ واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے تحت کئی نامور میڈیا اداروں کے نمائندگان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو سمیت متعدد خبر رساں اداروں کے نامہ نگاروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے وائٹ ہاؤس کے پریس بیجز حکام کی جانب سے ضبط کر لیے گئے ہیں۔ اس اچانک اور سخت فیصلے کے بعد صحافتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور اسے ذرائع ابلاغ کی آزادی پر ایک بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی اس نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد ان میڈیا اداروں سے وابستہ صحافیوں اور رپورٹرز کے لیے احاطے کے اندر داخل ہونا ناممکن ہو گیا ہے۔ متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کام کرنے والے پیشہ ورانہ عملے کو بغیر کسی پیشگی اور واضح نوٹس کے اس طرح کے اقدامات کا نشانہ بنایا جانا انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ تمام ادارے ہمیشہ کی طرح اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہے تھے جب ان کے پاس موجود سرکاری رسائی کے کارڈز کو ضبط کرنے کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
میڈیا تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس پورے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جمہوری نظام میں صحافت کی آزادی کو سلب کرنا اور خبروں کی ترسیل میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ایک خطرناک روایت ہے۔ اس طرح کے فیصلوں سے نہ صرف سرکاری اداروں اور میڈیا کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے بلکہ عوام تک درست معلومات پہنچانے کا عمل بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔
ابھی تک وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی تفصیلی یا باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر مزید قانونی اور سیاسی گرما گرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ تمام متاثرہ میڈیا ادارے اپنے حقوق کے تحفظ اور آزادی صحافت کے لیے متحرک ہو چکے ہیں، جبکہ اس فیصلے کے طویل مدتی اثرات پر بھی تبصرے کیے جا رہے ہیں۔