Pakistan
پاکستان کا سلامتی کونسل میں افغانستان سے دہشتگردی کے خلاف سخت انتباہ
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو واضح کر دیا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے ملنے والے دہشتگردانہ خطرات کے خلاف بوقتِ ضرورت اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔ کوہاٹ حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان سے دہشتگردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دوٹوک الفاظ میں باور کرایا ہے کہ اگر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیاں بند نہ ہوئیں تو اسلام آباد اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے بوقتِ ضرورت ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ سخت سفارتی مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں کوہاٹ میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف موثر کارروائی کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے پناہ گاہیں اب پڑوسی ملک میں موجود ہیں جنہیں ختم کرنا کابل حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی دفترِ خارجہ اور سلامتی کے اداروں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کالعدم تنظیمیں افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے عالمی برادری کو بھی صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ افغان عبوری حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رکھے گا اور جہاں بھی خطرہ موجود ہوگا، وہاں ریاست اپنی بقا کی جنگ پوری قوت سے لڑے گی۔
دوسری جانب افغان طالبان کی طرف سے ردعمل بھی سامنے آیا ہے جس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کرے، تاہم اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ کوہاٹ حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان اور افغان حکومت کے درمیان سفارتی اور سرحدی معاملات پر کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف انتہائی واضح ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے تک خطے میں دیرپا امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا اور عالمی طاقتوں کو بھی اس اہم معاملے پر پاکستان کا ساتھ دینا چاہئے۔