Politics
ڈی جی آئی ایس پی آر کا سعودی عرب کے دفاع سے متعلق بیان اور تجزیہ کاروں کی رائے
پاک فوج کے ترجمان نے سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے غیر مشروط عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں نے اس بیان کو پاکستانی عوام کی حقیقی امنگوں کا ترجمان قرار دیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے حالیہ پریس کانفرنس اور بیانات میں سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے دیے گئے غیر مشروط عزم کو سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں نے بھرپور انداز میں سراہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے ترجمان کا یہ مؤقف دراصل پاکستان کے غیور عوام کی گہری امنگوں اور خواہشات کی ہو بہو عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی سلامتی اور تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں سکیورٹی کے امور پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور حوثی حملوں کے تناظر میں خلیجی خطے کی صورتحال خاصی حساس بنی ہوئی ہے۔
حالیہ دنوں میں پاکستان کے اعلیٰ سطحی عسکری و سفارتی حلقوں کی طرف سے بھی اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تقدس اور سعودی عرب کی جغرافیایی سلامتی کے ساتھ پاکستان کا رشتہ انتہائی لازوال اور غیر مشروط ہے۔ دفتر خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں بھی اس عزم کو دہرایا گیا ہے کہ پاکستان ارضِ مقدس کے دفاع کے لیے اپنی نیت اور روح کے مطابق تمام معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تاریخی تعلقات محض دو طرفہ سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ یہ دونوں برادر ملکوں کے عوام کے مابین قلبی وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اس پس منظر میں پاک فوج کے ترجمان کا یہ کہنا کہ ہماری وابستگی غیر مشروط ہے، خطے کے دیگر ممالک بالخصوص خلیجی ریاستوں میں پاکستان کے دفاعی کردار پر اعتماد کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ چیلنجز سے بھرپور اس دور میں پاکستان کا یہ دوٹوک مؤقف علاقائی امن و استحکام کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ عوام کی طرف سے بھی اس پالیسی کو زبردست پذیرائی ملی ہے اور سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر اس عزم کو سراہا جا رہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پوری قوم اپنے اداروں کے اس موقف کی پشت پر کھڑی ہے۔