World
سعودی دارالحکومت ریاض پر حوثی باغیوں کا حملہ، دھواں بلند
یمنی حوثی باغیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض اور یَنبُو میں آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس حملے کے بعد ریاض ائیرپورٹ کے قریب سے گہرا دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا ہے جو خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافے کی غمازی کرتا ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور اہم صنعتی شہر یَنبُو میں واقع آرامکو کی تنصیبات پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے اور دیگر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض میں ائیرپورٹ کے قریب سے گہرا دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جس کے بعد خطے میں سکیورٹی خداتل مزید بڑھ گئے ہیں۔ یہ واقعہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام کو الرٹ کیے جانے کے کچھ ہی دیر بعد پیش آیا۔
حوثی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے ریاض میں کچھ 'حساس مقامات' کو اپنے ڈرونز اور میزائلوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ بحیرہ احمر کے کنارے واقع صنعتی شہر یَنبُو میں قائم سعودی آرامکو کی تنصیبات کو بھی حملوں کی زد میں لایا گیا۔ ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ تنصیبات عالمی توانائی کی فراہمی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کارروائی کو خطے میں ایک نمایاں اور خطرناک کشیدگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری طویل جنگ کے تناظر میں سعودی عرب کے دارالحکومت کو براہ راست نشانہ بنانا سکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاحال سعودی حکام یا متعلقہ اداروں کی جانب سے جانی یا مالی نقصان کے حوالے سے کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم سکیورٹی فورسز نے صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔