LIVE
Loading Breaking News...

مراد سعید کو احسن اقبال کو ہرجانہ ادا کرنے کا عدالت کا حکم

News Image
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کے خلاف وفاقی وزیر احسن اقبال کی جانب سے دائر ہرجانے کے دعوے پر فیصلہ سنادیا ہے۔ عدالت نے مراد سعید کو احسن اقبال کی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر ڈھائی لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ دس ارب روپے کا دعویٰ زائد قرار دے کر مسترد کردیا گیا۔
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید کے خلاف دائر ہتک عزت کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں وفاقی وزیر احسن اقبال کو ڈھائی لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ فیصلہ دونوں سیاسی شخصیات کے درمیان طویل عرصے سے چلنے والے قانونی تنازعے کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں الزامات اور جوابی الزامات کی گونج سنائی دیتی رہی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مراد سعید کی جانب سے لگائے گئے الزامات نے وفاقی وزیر احسن اقبال کی ذاتی اور سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم عدالت نے احسن اقبال کی جانب سے دائر کیے گئے دس ارب روپے کے بھاری ہرجانے کے دعوے کو ضرورت سے زیادہ اور غیر منطقی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مراد سعید عدالت میں اپنے لگائے گئے الزامات کے حق میں خاطر خواہ یا مضبوط شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے تھے۔ فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے میرٹ پر فیصلہ سناتے ہوئے مراد سعید کو حکم دیا کہ وہ متاثرہ فریق کو ڈھائی لاکھ روپے ہرجانے کی مد میں ادا کریں۔ سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو ایک اہم عدالتی نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں عوامی شخصیات پر لگائے جانے والے الزامات کے ثبوت کی فراہمی کو قانونی تقاضوں کے تحت پرکھا گیا ہے۔ اس مقدمے کا فیصلہ پاکستان کی سیاست میں اخلاقی اقدار اور قانونی حدود کے مباحث میں ایک نیا باب کھولتا ہے، جہاں سیاستدانوں کو اپنے بیانات اور الزامات پر جوابدہ ہونا پڑ رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بغیر شواہد کے کسی کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کے عمل کو قانونی چارہ جوئی کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔