Entertainment
مصنوعی ذہانت فلم سازی کے لیے خطرہ نہیں، شان دی شیپ کے تخلیق کار
برسٹل کے مشہور اینیمیٹڈ اسٹوڈیو کے تخلیق کاروں نے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سنیما اور فلم سازی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بیان اپنی مقبول ترین فرنچائز شان دی شیپ کی تیسری فیچر فلم کی ریلیز کے موقع پر دیا۔
برسٹل میں واقع معروف اینیمیٹڈ اسٹوڈیو کے تخلیق کاروں کا کہنا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت (AI) کا رجحان فلم سازی اور سنیما کی صنعت کے لیے کسی بڑے خطرے کا باعث نہیں بنے گا۔ انہوں نے یہ خیالات اپنی مشہور اور مقبول ترین فرنچائز شان دی شیپ (Shaun the Sheep) کی تیسری فیچر فلم کی ریلیز کے پس منظر میں پیش کیے۔ تخلیق کاروں کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے، لیکن انسانی تخیل، تخلیقی صلاحیت اور ہاتھ سے تیار کردہ اینیمیشن کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ اسٹوڈیو کے سربراہان کا کہنا ہے کہ روایتی فنون اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج فلم سازوں کو مزید بہتر اور دلکش کہانیاں سنانے کے مواقع فراہم کرتا ہے، اس لیے تخلیقی صنعتوں کو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ شان دی شیپ کی یہ تیسری فیچر فلم شائقین کے لیے ایک بار پھر بھرپور تفریح کا سامان لے کر آئی ہے اور اس کی تیاری میں روایتی اسٹاپ موشن اینیمیشن کے ساتھ جدید تکنیکی مدد بھی لی گئی ہے۔ برسٹل کے اس ادارے کی اس نئی پیشکش نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ معیاری اور خلوص نیت سے بنائی گئی کہانیاں ہمیشہ ناظرین کے دلوں پر راج کرتی ہیں، چاہے دنیا میں کسی بھی قسم کی تکنیکی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہوں۔ ناقدین کا بھی یہی ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی اصل آرٹ اور انسانی جذبات کی اہمیت بدستور قائم رہے گی اور یہ دونوں عناصر فلم انڈسٹری کی ترقی میں ایک دوسرے کے معاون بن سکتے ہیں۔