World
اسرائیلی صدر کا متنازع فوجی کی سزا معاف کرنے کا اعلان
اسرائیل کے صدر نے اس فوجی کی سزا معاف کر دی ہے جس نے 2016 میں ایک زخمی فلسطینی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ یہ واقعہ اپنے وقت میں شدید بین الاقوامی اور ملکی سطح پر تنازع کا شکار رہا تھا۔
اسرائیل کے صدر نے ایک ایسے فوجی کی سزا معاف کرنے کا اعلان کیا ہے جس نے سنہ 2016 میں مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں ایک زخمی اور غیر مسلح فلسطینی نوجوان کو سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس فوجی کا نام ایلور ازاریا تھا اور یہ واقعہ دنیا بھر میں شدید تنقید اور بحث کا موضوع بنا تھا۔
واقعے کے وقت ایلور ازاریا اسرائیلی فوج میں سارجنٹ کے طور پر تعینات تھے۔ انہوں نے ایک فلسطینی حملہ آور کو گولی ماری تھی جو پہلے ہی سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں زخمی ہو کر زمین پر گر چکا تھا اور بظاہر کسی قسم کا خطرہ نہیں بن رہا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو فوٹیج بھی سامنے آئی تھی جس میں مبینہ طور پر قتل کے اس عمل کو صاف دیکھا جا سکتا تھا، جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔
اسرائیلی فوجی عدالت نے اس معاملے پر سخت کارروائی کرتے ہوئے ایلور ازاریا کو غیر ارادہ قتل کے جرم میں سزا سنائی تھی، تاہم ان کی قید کی مدت میں بعد میں کمی بھی کی گئی تھی۔ اس عدالتی فیصلے پر اسرائیلی معاشرے کے اندر بھی گہری تقسیم دیکھی گئی تھی، جہاں دائیں بازو کے حلقے فوجی کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ اعتدال پسند اور بائیں بازو کے حلقے اسے قانون کی بالادستی کے لیے ضروری قرار دے رہے تھے۔
اب حالیہ صدارتی معافی کے بعد اس متنازع معاملے کا ایک اور باب کھل گیا ہے جو خطے میں جاری سیاسی و قانونی تنازعات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس اقدام پر فلسطینی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس قسم کے فیصلوں سے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو مزید شہ ملے گی۔