Technology
غزہ کے طلباء کی ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے جدوجہد
غزہ کی آئی ٹی انڈسٹری کو مسلسل بمباری اور تباہی کی وجہ سے شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے باوجود وہاں کے طلباء نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں سیکھنے کا جذبہ کم نہیں ہونے دیا۔
غزہ میں جاری طویل تباہی اور مسلسل بمباری نے خطے کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تعلیم کا شعبہ بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران ہونے والی تباہ کاریوں نے غزہ کی ابھرتی ہوئی آئی ٹی انڈسٹری کو تقریباً مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، جہاں نوجوانوں کے لیے روزگار اور سیکھنے کے مواقع روز بروز کم ہوتے جا رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے تباہ ہو چکے ہیں اور جدید آلات تک رسائی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود غزہ کے طلباء اور نوجوانوں کا حوصلہ پست نہیں ہوا۔ وسائل کی قلت، بجلی اور انٹرنیٹ کے طویل بحران کے باوجود، یہ طلباء ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے پاس نہ تو جدید کمپیوٹرز ہیں اور نہ ہی وہ سہولیات جو دنیا کے دوسرے حصوں میں طلباء کو میسر ہیں، لیکن ان کی لگن اور عزم میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ مقامی نوجوان اور اساتذہ اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے ہی سیکھنے اور سکھانے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف غزہ کے نوجوانوں کی دلیری کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ یہ بین الاقوامی برداری کے لیے بھی ایک لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اس بحران میں طلباء کی مدد کے لیے آگے آئیں۔