World
پیٹ ہیگسیٹھ کا سینڈ می ٹور اور ایران جنگ پر ردعمل
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے ٹیکساس سے اپنے 'سینڈ می ٹور' کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں شروع کیا گیا ہے جب ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ اور کشیدگی پر ملک بھر میں شدید سیاسی و عوامی ردعمل پایا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے ریاست ٹیکساس سے اپنے متنازعہ اور اہم 'سینڈ می ٹور' (Send Me Tour) کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ دورہ ایسے حساس وقت میں شروع کیا گیا ہے جب مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران کے ساتھ کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے حوالے سے امریکی عوام اور سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔ مبصرین کے مطابق، اس دورے کا مقصد ملٹری اہلکاروں اور عوام کے ساتھ براہ راست رابطہ بحال کرنا اور موجودہ دفاعی پالیسیوں کا دفاع کرنا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں، جس کے بعد امریکی دفاعی تیاریوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پیٹ ہیگسیٹھ کے اس دورے کو سیاسی حلقوں میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس پر جنگی صورتحال کے تناظر میں کڑی تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دورے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور امریکی شہریوں میں جنگ کے خوف کو گہرا کر سکتے ہیں۔
ٹیکساس میں اپنے افتتاحی خطاب کے دوران، پیٹ ہیگسیٹھ نے ملکی سلامتی اور فوجیوں کے عزم کو سراہا، لیکن انہوں نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر براہ راست کھل کر بات کرنے سے گریز کیا۔ تاہم، پینٹاگون کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع کا یہ دورہ دراصل فوج کے اندر حوصلہ بلند کرنے اور کسی بھی ممکنہ جنگی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ایک کڑی ہے۔
آنے والے دنوں میں پیٹ ہیگسیٹھ کے اس دورے کے دوران مزید اہم بیانات اور دفاعی حکمت عملی کے خد و خال سامنے آنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب، امریکہ میں موجود امن پسند تنظیمیں اور اپوزیشن رہنما اس دورے کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور ایران کے ساتھ سفارتی حل نکالنے پر زور دے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پینٹاگون کی یہ مہم امریکی عوام کی سوچ پر کتنا اثر انداز ہوتی ہے۔