LIVE
Loading Breaking News...

ڈنمارک اور امریکہ کا گرین لینڈ معاہدہ اور خود مختاری کا مسئلہ

News Image
ڈنمارک نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ طے پانے والا کوئی بھی معاہدہ ملک کی خود مختاری پر اثرانداز نہیں ہوگا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گرم ہوتے ہوئے آرکٹک کے خطے میں تزویراتی برتری حاصل کرنے کی دوڑ تیز ہو چکی ہے۔
کوپن ہیگن: ڈنمارک کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ طے پانے والا کوئی بھی 'بائنڈنگ' یعنی پابند معاہدہ ملک کی خود مختاری پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے سرد ترین خطے یعنی آرکٹک میں عالمی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی عروج پر ہے اور خطے میں تزویراتی برتری حاصل کرنے کی جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ڈینش حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن قومی سلامتی اور علاقائی خود مختاری ان کی اولین ترجیح ہے۔ امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے گرین لینڈ جیسے تزویراتی طور پر اہم خطے میں اپنا قدم جمانے اور اثر و رسوخ بڑھانے کے خواہاں رہے ہیں۔ آرکٹک کا علاقہ نہ صرف قدرتی وسائل سے مالا مال ہے بلکہ عسکری اور تجارتی لحاظ سے بھی دنیا بھر کی بڑی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ عالمی حد حرارت کی وجہ سے برف پگھلنے کے نتیجے میں اس خطے میں نئے بحری راستے کھل رہے ہیں، جس کی وجہ سے امریکہ، روس اور دیگر ممالک کے درمیان اس خطے میں اپنے قدم جمانے کی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، گرین لینڈ جو کہ ڈنمارک کی بادشاہی کے تحت ایک خود مختار خطہ ہے، بین الاقوامی سیاست میں انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ڈنمارک کے لیے یہ ایک نازک توازن کا معاملہ ہے کیونکہ ایک طرف اسے امریکہ جیسے اہم عالمی اتحادی کو بھی خوش رکھنا ہے تو دوسری طرف اسے اپنی علاقائی سالمیت اور گرین لینڈ کے عوام کے حقوق کا بھی بھرپور دفاع کرنا ہے۔ ڈینش حکام کا یہ تازہ بیان اسی توازن کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے باوجود کوپن ہیگن کی خودمختاری پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔