World
کیوبا میں ملک گیر بلیک آؤٹ، بجلی کی بحالی کا کام شروع
کیوبا میں ایک بار پھر ملک گیر بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے جس کے بعد حکام بجلی کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے عائد کردہ توانائی کی ناکہ بندی کے بعد رواں سال کے دوران ملک میں یہ کم از کم چھٹا بڑا بلیک آؤٹ ہے۔
کیوبا میں ایک بار پھر بجلی کا نظام مکمل طور پر بیٹھ گیا ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر میں ایک اور بڑا ملک گیر بلیک آؤٹ رونما ہوا ہے۔ حکام اور متعلقہ محکمے اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں، تاہم نظام کو دوبارہ فعال کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ تازہ ترین بجلی کا تعطل کیوبا کے توانائی کے شعبے کو درپیش گہرے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ رواں سال کے دوران کم از کم چھٹا بڑا موقع ہے جب پورے ملک کو اس طرح کے سنگین بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان بار بار ہونے والے بجلی کے تعطل نے عام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور عوام کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کی بنیادی وجوہات میں وہ سخت اقدامات اور توانائی کی ناکہ بندی شامل ہے جو امریکہ کی طرف سے عائد کی گئی ہے۔ اس ناکہ بندی کے اثرات کیوبا کے پاور پلانٹس، ایندھن کی درآمد اور مجموعی معیشت پر براہ راست پڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے مرمت اور دیکھ بھال کے کام بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت کیوبا صورتحال کو سنبھالنے اور بنیادی خدمات کو بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، لیکن ایندھن کی شدید قلت اور پرانی تنصیبات کی وجہ سے بحالی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ بین الاقوامی مبصرین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر بین الاقوامی امداد یا تعاون فراہم نہ کیا گیا تو کیوبا میں انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ عوام کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جبکہ حکام کا اصرار ہے کہ وہ تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے جلد از جلد بجلی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔