LIVE
Loading Breaking News...

دی ہیگ میں انتہائی دائیں بازو کا پرتشدد مظاہرہ، پولیس کا کریک ڈاؤن

News Image
نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں امیگریشن مخالف انتہائی دائیں بازو کے مظاہرے کے دوران شدید ہنگامہ آرائی اورتشدد کے بعد پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ وزیر انصاف نے مظاہرے کے دوران ہٹلر کے سلیوٹ، یہود دشمن نعروں اور تشدد کے واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔
نیدرلینڈز کے سیاسی دارالحکومت دی ہیگ میں اتوار کے روز ایک انتہائی دائیں بازو کے امیگریشن مخالف مظاہرے نے اس وقت پرتشدد رخ اختیار کر لیا جب کچھ شرپسند عناصر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے شروع کر دیے۔ صورتحال کے گھمبیر ہونے پر ڈچ فساد مخالف پولیس نے فوری اور سخت کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کر دیا اور امن و امان کی بحالی کے لیے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق اس احتجاج کا مقصد حکومت کی ہجرت اور پناہ گزینوں کی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنا تھا، جو جلد ہی بدنظمی کا شکار ہو گیا۔ مظاہرے کے دوران بعض شرپسندوں کی جانب سے انتہائی قابل اعتراض اقدامات دیکھے گئے جن کی ویڈیو فوٹیجز اور اطلاعات نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ نیدرلینڈز کے وزیر انصاف نے اس واقعے پر انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرے کے دوران لگائے جانے والے یہود دشمن نعروں، ہٹلر کے سلیوٹ اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کے واقعات کی کڑے الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اظہار رائے کی آزادی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ عوامی املاک کو نقصان پہنچایا جائے یا نفرت انگیز نظریات اور فاشزم کو فروغ دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ اب اس پرتشدد احتجاج کے پیچھے کارفرما مرکزی کرداروں اور منتظمین کی شناخت کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے شرپسندوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے تاکہ قانون کے مطابق سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ اس واقعے کے بعد سے ملک بھر میں سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور انتہا پسندانہ رجحانات کے خلاف سیاسی اتحادوں میں مزید سخت لائحہ عمل اپنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔