World
غزہ میں اسکولوں کی بحالی، بچوں کی تعلیمی میدان میں واپسی
طویل تنازع اور نامساعد حالات کے بعد غزہ کے بچوں نے باضابطہ طور پر اسکولوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ پہلا سرکاری دن ہے جب بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو رہی ہیں۔
غزہ کی پٹی میں طویل کشیدگی اور مشکلات کے بعد ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں کے بچوں کے لیے اسکولوں کا پہلا باضابطہ اور سرکاری دن شروع ہو چکا ہے۔ بچے طویل عرصے تک تعلیمی اداروں سے محروم رہنے کے بعد اب دوبارہ اپنے کلاس رومز میں لوٹ رہے ہیں، جو ان کے روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ مقامی میڈیا اور ذرائع کے مطابق اسکولوں کی بحالی سے بچوں کے چہروں پر خوشی اور مسرت کے آثار نمایاں ہیں کیونکہ وہ طویل عرصے سے اپنے ہم جماعتوں سے دور اور تعلیم سے محروم تھے۔ تعلیمی سرگرمیوں کا دوبارہ شروع ہونا نہ صرف بچوں کی ذہنی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ غزہ کے باسی تمام تر مصائب کے باوجود زندگی کی طرف لوٹنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اسکول کھلنے کے اس پہلے دن اساتذہ اور انتظامیہ نے بھی بچوں کا بھرپور انداز میں خیرمقدم کیا اور انہیں دوبارہ پڑھائی کے ماحول سے مانوس کرنے کے لیے خصوصی سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔ والدین نے بھی اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں تعلیمی نظام مزید بہتری کی طرف گامزن ہوگا اور بچوں کو محفوظ ماحول میں علم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے رہیں گے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس امر پر زور دے رہی ہیں کہ بچوں کے بنیادی حقوق بالخصوص تعلیم کے حصول کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کو سنوار سکیں۔