World
روس میں پارلیمانی انتخابات اور سائبر حملے
روس میں جاری پارلیمانی انتخابات کے دوسرے روز اہم نظام پر طاقتور سائبر حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ انتخابات یوکرین تنازع کے آغاز کے بعد ملک میں ہونے والے پہلے انتخابات ہیں جنہیں جنگ پر عوامی حمایت کا اہم پیمانہ سمجھا جا رہا ہے۔
ماسکو: روسی پارلیمانی انتخابات کے دوسرے روز حکام کی جانب سے ملک کے اہم ڈیجیٹل اور انتخابی نظام پر طاقتور سائبر حملے کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ووٹنگ کے عمل کو سبوتاژ کرنا اور انتخابی نتائج کے حوالے سے بے یقینی پیدا کرنا تھا، تاہم متعلقہ اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بیشتر حملوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ یہ انتخابات اس وقت انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یوکرین میں فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد روس میں ہونے والے یہ پہلے انتخابات ہیں جنہیں صدر ولادیمیر پوتن کی پالیسیوں اور جاری جنگ کے لیے عوامی حمایت کا ایک بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی اور ملکی مبصرین کی جانب سے بھی ان انتخابات کو انتہائی قریب سے دیکھا جا رہا ہے تاکہ یہ اندازہ لگایا جا सके کہ روسی عوام موجودہ سیاسی صورتحال اور یوکرین تنازع کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں۔ سائبر حملوں کے باوجود ملک بھر میں پولنگ کا عمل جاری ہے اور سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا ڈیجیٹل مداخلت کو روکا جا سکے۔ انتخابی کمیشن کے حکام نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ڈیجیٹل سیکیورٹی ٹیمیں ہائی الرٹ پر ہیں اور تمام ووٹنگ کے عمل کو محفوظ بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ الیکشن کے حتمی نتائج آنے والے دنوں میں متوقع ہیں جن سے روس کے مستقبل کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔