LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت کے لیے اے آئی فورس بنانے کا اعلان

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکہ کو برتری دلانے کے لیے ایک خصوصی 'اے آئی فورس' قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ قدم انڈسٹری کی جانب سے ممکنہ خطرات کی گھنٹیاں بجائے جانے اور بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
واشنگٹن (نیکسو را نیوز اردو) امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ملکی پوزیشن کو مستحکم کرنے اور انڈسٹری کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے ایک خصوصی 'اے آئی فورس' (AI Force) قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ماہرین کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے سکیورٹی خدشات اور انڈسٹری کے ضوابط پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس شعبے میں تیزی سے فیصلے کرنے کی حامی ہے تاکہ عالمی سطح پر امریکہ کی برتری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس نئے اقدام کے تحت ٹرمپ نے ایک نیا 'اے آئی زار' یا خصوصی مشیر مقرر کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے جو اس پوری فورس اور متعلقہ پالیسیوں کی نگرانی کرے گا، تاہم اس تقرری اور فورس کے خدوخال کے حوالے سے ابھی تک تفصیلی لائحہ عمل جاری نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں معروف چپ ساز ادارے اینڈیا (Nvidia) کے چیف ایگزیکٹو سے فون پر بات چیت بھی کی ہے جس میں مصنوعی ذہانت سے جڑے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ٹرمپ کا یہ عزم ہے کہ وہ امریکہ میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو دھیما نہیں ہونے دیں گے اور انڈسٹری کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ دوسری جانب، ٹیکنالوجی ماہرین اور سول سوسائٹی کے کچھ حلقے اس تیز رفتار اپروچ پر مخلوط جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ بغیر کسی سخت ریگولیٹری فریم ورک کے اے آئی کی ترقی کو کھلا چھوڑنا سکیورٹی اور اخلاقیات کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، جبکہ کاروباری حلقے اس قدم کو معیشت اور ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ نئی انتظامیہ اس 'اے آئی فورس' کے ذریعے تکنیکی ترقی اور ضابطہ بندی کے درمیان کیسے توازن قائم کرتی ہے۔