World
افغانستان کا دفاعی حق: طالبان کی پاکستان کو سرحد پار حملوں پر وارننگ
طالبان نے پاکستان کو سرحد پار فوجی کارروائیوں کے خلاف سختی سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا جانتا ہے۔ یہ ردعمل پاکستان کی جانب سے کوہاٹ حملے کے بعد افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے بیانات کے بعد سامنے آیا ہے۔
افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کو واضح الفاظ میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغانستان کو اپنے ملک کا دفاع کرنے کا بھرپور حق حاصل ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب پاکستان نے کوہاٹ میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے کے بعد سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے دہشت گردوں کو 'جہاں کہیں بھی ہوں' ختم کر سکتا ہے۔ پاکستانی حکام کا اصرار ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی اور کابل حکومت کو اپنی سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا ہوگا۔ دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان نے ان دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کو کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ طالبان حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی سرحدوں اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس تنازعے کے دوران مختلف علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی سفارتی کوششوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، جن میں سعودی عرب جیسے دوست ممالک کی ثالثی کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے کم کیا جا سکے اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔