LIVE
Loading Breaking News...

ترکیہ کی سعودی عرب کی سلامتی کی توثیق اور دفاعی تعاون

News Image
ترکیہ کے وزیر خارجہ نے حوثی حملوں میں اضافے کے بعد سعودی عرب کی سلامتی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ترکیہ نے یمن سے بڑھتے ہوئے حوثی حملوں اور خطے میں کشیدہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ان کا ملک برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا اور کسی بھی خطرے کے خلاف ریاض کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں عسکری تناؤ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور حوثی باغیوں کی جانب سے علاقائی امن کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں تاریخی 'مکہ دفاعی معاہدے' کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے پر کام جاری ہے جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک اس معاہدے کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے سعودی عرب کی دفاعی اور عسکری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تمام تجاویز کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکیہ کا یہ قدم مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کی نئی صف بندی کو ظاہر کرتا ہے جہاں خطے کے اہم ممالک باہمی تعاون کے ذریعے سکیورٹی کے چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حوثی حملوں کی وجہ سے یمن اور اس کے اردگرد کے سمندری راستوں پر جو خطرات منڈلا رہے ہیں، اس سے نمٹنے کے لیے انقرہ اور ریاض کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی اشتراک انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے نہ صرف سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں کو تقویت ملے گی بلکہ خطے میں ایک طاقتور توازن بھی قائم ہوگا۔ مستقبل کے حوالے سے یہ پیش رفت خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ اگرچہ کچھ حلقوں کی جانب سے اس دفاعی اقدام کے خطے پر ممکنہ اثرات اور خطرات پر بحث کی جا رہی ہے، تاہم ترکیہ کی قیادت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات خالصتاً دفاعی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد خطے میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آئندہ دنوں میں مزید اعلیٰ سطح کے رابطے متوقع ہیں، جن میں عسکری سازوسامان کی فراہمی اور مشترکہ حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔