LIVE
Loading Breaking News...

ایران حوثی سعودی جنگ بندی: مشرق وسطیٰ کی نئی صورتحال

News Image
موصولہ رپورٹس کے مطابق ایران یمن میں سرگرم حوثی باغیوں کو سعودی عرب کے ساتھ کسی بھی باضابطہ جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے سے مسلسل روک رہا ہے۔ اس صورتحال سے خطے میں دیرپا امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے اداروں کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ایران یمن میں موجود حوثی باغیوں پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ وہ سعودی عرب کے ساتھ کسی حتمی اور پائیدار جنگ بندی کے معاہدے تک نہ پہنچ سکیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور یمن کے دیرینہ بحران کا پرامن حل تلاش کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں۔ تہران کی مبینہ مداخلت کی وجہ سے دونوں فریقین کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران خطے میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے حوثیوں کو ایک کارآمد آلے کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔ سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے خطے میں استحکام لانے کی امیدیں وابستہ کی جا رہی تھیں، لیکن تہران کی طرف سے رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کی اطلاعات نے ان تمام امن امیدوں کو دھندلا دیا ہے۔ یمن میں طویل عرصے سے جاری اس جنگ نے انسانی بحران کو جنم دیا ہے اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور علاقائی طاقتیں یمن میں امن کے قیام کے لیے کوشاں ہیں تاکہ وہاں کے عوام کو مصائب سے نجات دلائی جا سکے۔ تاہم، ایران کی جانب سے جنگ بندی کی راہ میں حائل ہونے والی یہ پالیسی خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک علاقائی کشیدگی اور بالادستی کی جنگ ختم نہیں ہوتی، یمن کا بحران حل کرنا اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا انتہائی دشوار رہے گا۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کے پیچیدہ سیاسی اور عسکری توازن کو اجاگر کر دیا ہے، جہاں بیرونی مداخلت مقامی سطح پر امن معاہدوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ سفارتی سطح پر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جاتا ہے اور آیا سعودی عرب اور حوثی قیادت تہران کے اثر و رسوخ سے نکل کر کسی معاہدے تک پہنچ پاتی ہے یا نہیں۔