LIVE
Loading Breaking News...

ریاض اور ینبع میں حوثی حملے، سعودی عرب میں کشیدگی

News Image
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور بندرگاہی شہر ینبع میں اہم تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرون سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس حملے کے بعد ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اہم مقامات اور بندرگاہی شہر ینبع میں تیل کی تنصیبات پر کامیاب فضائی حملے کیے ہیں۔ حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام پر جاری کردہ ایک بیان میں بتایا کہ یہ کارروائیاں بڑی تعداد میں بالسٹک اور کروز میزائلوں نیز ڈرونز کے ذریعے کی گئی ہیں، جن کا مقصد سعودی دارالحکومت اور آرامکو کے آئل ڈپو کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رہائشیوں نے دارالحکومت میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی تھی۔ حملے کے بعد ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع آرامکو کے فیول ڈپو پر لگنے والی آگ کو بجھانے کے لیے فائر فائٹرز کی ٹیمیں فوری طور پر روانہ کی گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق ہوائی اڈے کے قریب دھوکے کے سیاہ بادل آسمان پر چھائے ہوئے نظر آئے جبکہ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس نے ریاض ایئرپورٹ پر پروازوں کی تاخیر اور منسوخی کی تصدیق کی ہے۔ سعودی سول دفاع کی جانب سے شہریوں کو الرٹ جاری کیا گیا تھا اور انہیں گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس حملے کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی اور خطے میں تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے سعودی عرب پر ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کشیدگی یمن میں طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی کے ایک نئے اور خطرناک مرحلے کی غماز ہے جس سے خطے کا امن مزید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔