LIVE
Loading Breaking News...

اسحاق ڈار نیویارک پہنچ گئے، وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ اقوام متحدہ

News Image
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل ابتدائی مشاورت کے لیے نیویارک پہنچ گئے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف بھی جلد نیویارک پہنچیں گے اور 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اتوار کے روز ابتدائی مشاورت اور سفارتی تیاریوں کے لیے نیویارک پہنچ گئے ہیں۔ ان کی یہ آمد وزیراعظم شہباز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں سجلس میں شرکت کے لیے دورے سے ایک روز قبل عمل میں آئی ہے۔ اسحاق ڈار کے ابتدائی دورے کا مقصد وزیراعظم کی آمد سے قبل تمام سفارتی امور کو حتمی شکل دینا اور پاکستان کے لیے ایک فعال اور موثر سفارتی لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف پیر کے روز نیویارک پہنچیں گے اور وہ 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اہم خطاب کریں گے جس میں وہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر پاکستان کا موقف کھل کر پیش کریں گے۔ حکومت کی جانب سے اخراجات میں کمی اور سادگی مہم کے پیش نظر پاکستانی وفد کو کافی حد تک مختصر کر دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مشن کے ذرائع کے مطابق، اسحاق ڈار اور سینیئر خارجہ پالیسی کے مشیر طارق فاطمی وزیراعظم کے بنیادی وفد کا حصہ ہوں گے، جبکہ کئی وفاقی وزراء جو پہلے اس دورے میں شامل ہونے والے تھے، اب اس فہرست کا حصہ نہیں ہیں۔ اطلاعات و نشریات کے وزیر عطا اللہ تارڑ، موسمیاتی تبدیلی کے وزیر ڈاکٹر مصدق ملک اور منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال ان وزراء میں شامل ہیں جو اس بار نیویارک کے دورے پر نہیں آرہے ہیں۔ اس کٹائی کے باوجود وفد کا بنیادی ہدف اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران پاکستان کی ترجیحات کو اجاگر کرنا اور تیزی سے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال بالخصوص مشرق وسطیٰ کے بحران پر توجہ مرکوز رکھنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں مشرق وسطیٰ کا بحران اور یمن کی کشیدہ صورتحال اس وقت سرفہرست مباحث کا حصہ بنی ہوئی ہیں۔ سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاسوں میں یمن کی صورتحال اور تجارتی جہاز رانی پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ پاکستان کے لیے مشرق وسطیٰ کا موجودہ بحران ایک انتہائی حساس سفارتی چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ پاکستان کے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ بھی تاریخی اور برادرانہ روابط موجود ہیں۔ ان حالات میں پاکستان اس بات پر زور دے رہا ہے کہ تنازعات کا حل صرف اور صرف گفت و شنید اور پائیدار سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے اس اہم دورے کے ایجنڈے میں پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے، انسداد دہشت گردی، اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اقوام متحدہ کی اصلاحات کے امور بھی شامل ہیں۔ وزیراعظم اپنے اس دورے کے دوران دنیا کے مختلفم رہنماؤں اور سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سے اہم دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ پاکستان کے لیے فوری ہدف یہ ہے کہ وہ ایک ایسے وقت میں اپنی سفارتی ترجیحات کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھائے جب خطے کی سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس اور نازک موڑ سے گزر رہی ہے۔