LIVE
Loading Breaking News...

مڈٹرم انتخابات: ڈونلڈ ٹرمپ کی 25 نمایاں کامیابیاں اور سیاسی صورتحال

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات سے قبل اپنی حکومت کی 25 بڑی کامیابیاں گنواتے ہوئے امیگریشن، معیشت اور خارجہ پالیسی کے اقدامات کو اجاگر کیا۔ رائے عامہ کے جائزوں میں ریپبلکن پارٹی کی کمزور پوزیشن اور کم ہوتی مقبولیت کے پیش نظر صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں قریب آنے والے مشکل مڈٹرم انتخابات سے قبل اپنی صدارت کی 25 اہم ترین کامیابیوں کی ایک طویل فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی حکومت نے مہاجرین کے داخلے کو مکمل طور پر روک دیا اور انگریزی کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کی سرکاری زبان قرار دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، نومبر میں ہونے والے ان انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ اپنی گرتی ہوئی عوامی مقبولیت کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ حالیہ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران میں جاری غیر مقبول جنگ اور اس کی وجہ سے ایندھن اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے حکمراں ریپبلکن پارٹی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ریپبلکن پارٹی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان اور یہاں تک کہ سینیٹ میں بھی اپنی اکثریت کھو سکتی ہے، جو صدر ٹرمپ اور ان کے 'امریکہ فرسٹ' ایجنڈے کے لیے ان کی دوسری مدتِ صدارت کے آخری دو سالوں میں ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ جمعہ کے روز اپنے ایک طویل سوشل میڈیا پیغام میں صدر ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے تاریخ کی سب سے محفوظ سرحدیں یقینی بنائی ہیں، جس میں امیگریشن، خارجہ پالیسی اور معیشت پر خصوصی توجہ دی گئی۔ انہوں نے لکھا کہ گزشتہ سولہ مہینوں کے دوران امریکہ میں کسی بھی غیر قانونی تارکینِ وطن کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی اور خطرناک مقامات سے آنے والے مہاجرین کی تعداد میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ملک میں ایک سخت امیگریشن کریک ڈاؤن جاری رکھا ہے جس میں مسلسل جلاوطنی اور ایسے افراد کو تیسرے ملک بھیجنا شامل ہے جنہیں قانونی طور پر امریکہ اپنے وطن واپس نہیں بھیج سکتا۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اسلامی جمہوریہ کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ آ سکے۔ فروری میں شروع ہونے والی اس جنگ کے لیے ٹرمپ نے مختلف اور بدلتے ہوئے دلائل دیے تھے۔ تہران پر امریکی و اسرائیلی حملوں نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور مشرق وسطیٰ کو جنگ کی لپیٹ میں لے لیا ہے، جو ایسے صدر کے لیے ایک دلدل ثابت ہو رہا ہے جنہوں نے امریکہ کو کسی بھی مزید غیر ملکی جنگ میں نہ گھسیٹنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تجارتی شراکت داروں پر عائد کردہ بھاری ٹیکسوں اور محصولات کو بھی سراہا، جن کا مقصد امریکی مینوفیکچرنگ کو ملک میں واپس لانا بتایا گیا ہے۔