Pakistan
لاہور ہائی کورٹ کا یو اے ای میں حراست پاکستانیوں سے متعلق وزارتِ خارجہ کو حکم
لاہور ہائی کورٹ نے وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری کو یو اے ای میں زیرِ حراست دو پاکستانی شہریوں کے معاملات پر پندرہ روز میں قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ درخواستیں تحریکِ انصاف سے وابستہ سید سلمان رضا زیدی اور محمد جنید جہانگیر کے اہل خانہ کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری کو ہدایت کی ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں حراست میں لیے جانے والے دو پاکستانی شہریوں اور تحریکِ انصاف سے وابستہ افراد کے معاملات کا پندرہ دن کے اندر جائزہ لے کر قانون کے مطابق فیصلہ کریں۔ یہ احکامات جسٹس صادق محمود خرام نے سید سلمان رضا زیدی اور محمد جنید جہانگیر کے اہل خانہ کی جانب سے دائر کردہ دو الگ الگ درخواستوں پر جاری کیے، جن میں بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی نے وکالت کے فرائض انجام دیے۔ عدالت میں دائر کی گئی درخواستوں کے مطابق، سلمان رضا زیدی کو ستائیس ستمبر دو ہزار چوبیس کو شارجہ میں ان کی رہائش گاہ سے مبینہ طور پر لاپتہ کیا گیا اور بعد ازاں یو اے ای کے حکام نے انہیں اپنی حراست میں لے لیا۔ سلمان رضا زیدی کی اہلیہ فریال زینب نے عدالت کو بتایا کہ تقریبا دو سال گزر جانے کے باوجود انہیں اپنے شوہر کے خلاف عائد کردہ الزامات، عدالتی کارروائی، سنائی جانے والی سزا یا مکمل عدالتی ریکارڈ کے بارے میں کوئی بھی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ دوسری درخواست میں محمد جنید جہانگیر کے والد محمد ابراہیم نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بیٹے کو چوبیس ستمبر دو ہزار چوفیس کو سعودی عرب سے واپسی پر مبینہ طور پر دبئی ایئرپورٹ سے حراست میں لے لیا گیا تھا۔ درخواستوں میں وفاقی حکومت اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے دونوں شہریوں کو مؤثر قونصلر تحفظ اور قانونی امداد فراہم کرنے میں مبینہ ناکامی کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی نے عدالت کو بتایا کہ دونوں شہریوں کی حراست سے متعلق درخواستیں اور نمائندگی کے کاغذات سیکرٹری خارجہ کو جمع کروائے جا چکے ہیں لیکن ان پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ دونوں پاکستانی شہریوں کے لیے فوری قانونی اور قونصلر امداد فراہم کی جائے، ان کے عدالتی ریکارڈ تک رسائی دی جائے اور ان کی پاکستان واپسی کے لیے سفارتی سطح پر اقدامات اٹھائے جائیں۔ اس کے علاوہ ریاست کی جانب سے اس معاملے میں اب تک اٹھائے گئے اقدامات پر مبنی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی گئی۔ فریقین کے دلائل سننے اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد، جسٹس صادق محمود خرام نے سیکرٹری خارجہ کو حکم دیا کہ وہ سلمان رضا زیدی اور محمد جنید جہانگیر کی حراست سے متعلق زیرِ التوا تمام درخواستوں پر قانون کے مطابق اور فوری طور پر کارروائی کریں۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ حکم نامے کی مصدقہ نقل موصول ہونے کے بعد ترجیحی بنیادوں پر پندرہ روز کے اندر تمام متعلقہ امور کا فیصلہ کیا جائے، جس کے بعد عدالت نے دونوں درخواستیں نمٹا دیں۔