LIVE
Loading Breaking News...

اسحاق دار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ، توانائی کی ترسیل پر تبادلہ خیال

News Image
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق دار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو میں خطے میں توانائی کی بلاتعطل ترسیل اور بحری جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سائیڈ لائنز پر ملاقات پر بھی اتفاق کیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق دار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ہفتے کے روز ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق دار نے توانائی کی بلاتعطل ترسیل اور سمندری راستوں پر بحری جہازوں کی محفوظ اور تیز رفتار نقل و حرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ امور ترقی پذیر ممالک اور عالمی سپلائی چینز کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسحاق دار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ باہمی تعاون کو مزید فروغ دیں گے اور آئندہ ہفتے نیویارک میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسیویں اجلاس کے موقع پر ایک بار پھر ملاقات کریں گے۔ یہ ٹیلیفونک رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز اور باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش رکاوٹوں پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ یہ دونوں سمندری راستے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ امریکی جنگ کے آغاز کے بعد سے خاورمیانہ سے تیل کی برآمدات اور عالمی رسد متاثر ہو چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق حالیہ کشیدگی اور بحری راستوں کی بندش کے خدشات سے عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں اور خوراک کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان نے اس سے قبل بھی عالمی فورمز پر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تنازعات کا حل صرف اور صرف گفت و شنید میں پوشیدہ ہے۔ دفتر خارجہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سلامتی کو لاحق خطرات کو دور کرنے کے لیے سفارتی ذرائع کو بروئے کار لائیں تاکہ خطے کے عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔